یورپ میں مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج، متعدد شہروں میں جھڑپیں

مہنگائی، بے روزگاری، کم اجرتوں اور معاشی عدم مساوات کے خلاف یورپ کے متعدد شہروں میں احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے، جہاں بعض مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں
پیرس : فرانس میں مہنگائی اور تعلیمی اصلاحات کے خلاف احتجاجی سرگرمیاں تیز ہو گئیں۔ دارالحکومت پیرس میں لاکھوں افراد نے مظاہرے میں شرکت کی، جبکہ لیون میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق لیون میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور سینکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا۔ مظاہروں کے اہم مطالبات میں بڑھتے اخراجاتِ زندگی، روزگار کے مواقع اور تعلیمی پالیسیوں سے متعلق تحفظات شامل تھے۔
بارسلونا، روم اور میلان میں معاشی مسائل کے خلاف احتجاج
اسپین کے شہر بارسلونا میں بھی احتجاج کے دوران بدامنی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق بعض دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے، جبکہ پولیس نے سو سے زائد افراد کو گرفتار کیا۔
اٹلی کے دارالحکومت روم اور شہر میلان میں ہزاروں افراد نے کم اجرتوں، مہنگائی اور روزگار کے محدود مواقع کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین کے مطالبات کا مرکز زندگی گزارنے کے بڑھتے اخراجات اور معاشی حالات میں بہتری تھا۔
برسلز میں آنسو گیس کا استعمال،
بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں حکومت مخالف ریلی کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور مرچوں کے اسپرے کا استعمال کیا۔
یورپ کے مختلف شہروں میں سامنے آنے والے یہ احتجاج مہنگائی، اجرتوں، روزگار اور معاشی مواقع سے متعلق عوامی خدشات کو نمایاں کرتے ہیں۔ تاہم، ان مظاہروں کے مجموعی سیاسی اور معاشی اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے ان کے مطالبات، شرکا کی تعداد اور متعلقہ حکومتوں کے ردعمل سے متعلق مزید مستند معلومات ضروری ہیں۔
شائع ہوا: 25 اکتوبر، 2026 کو 06:48 AM
آخری تدوین: 25 اکتوبر، 2026



