تہران میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی ایرانی قیادت سے اہم بات چیت آج متوقع

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی عرب پر حوثی حملوں کے تناظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام آج 26 اکتوبر 2026 کو تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ اس رابطے میں پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی عرب کی جانب سے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کی طرف سے انٹیلی جنس کے سربراہ کریں گے
اسلام آباد:خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، معاملے سے آگاہ دو افراد نے بتایا ہے کہ مجوزہ بات چیت کا محور علاقائی رابطہ کاری اور سلامتی کی صورتِ حال ہوگی۔ یہ ملاقات ایسے وقت ہو رہی ہے جب سعودی عرب کو یمن میں سرگرم ایران نواز حوثی گروہ کے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے اس اتحاد کے تینوں ارکان کی ایران کے ساتھ اعلیٰ سطح پر یہ پہلی مشترکہ بات چیت ہوگی، جب سے سعودی عرب پر حوثی حملوں میں شدت آئی ہے۔
تینوں ممالک نے اگست 2026 میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس سمجھوتے کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ فریقین نے ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا عہد کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، رواں ماہ ریاض میں ہونے والے ہنگامی اجلاس کے بعد تینوں ممالک نے سعودی عرب میں دفاعی صلاحیتوں اور فوجی وسائل کی فوری تعیناتی یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا تھا۔ ایسے میں تہران میں ہونے والی بات چیت علاقائی سلامتی کے معاملات پر رابطے کا ایک اہم موقع بن سکتی ہے۔
عاصم منیر، شہزادہ خالد بن سلمان اور ترک انٹیلی جنس سربراہ کی شرکت
پاکستان کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر اجلاس میں شریک ہوں گے، جبکہ سعودی وفد کی قیادت وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کریں گے۔ ترکیہ کی نمائندگی ملک کے انٹیلی جنس سربراہ کریں گے۔
رائٹرز کے مطابق، سعودی عرب پر حملوں کے دوران اتوار، 25 اکتوبر کو بھی میزائلوں اور ڈرونز کی ایک نئی لہر کو روکنے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ اس صورتِ حال نے دفاعی تعاون اور علاقائی رابطہ کاری کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

معاہدے کی توثیق کے حوالے سے بھی پیش رفت جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے گزشتہ ہفتے اس معاہدے کی منظوری دے دی تھی، جبکہ ترکیہ کی پارلیمان میں اس کی توثیق کا عمل ابھی جاری ہے۔
ملاقات کے ممکنہ اثرات اور آئندہ پیش رفت
تہران میں ہونے والی بات چیت کا اعلان ایسے وقت کیا گیا ہے جب خطے میں ایران، امریکا، اسرائیل اور حوثی گروہ سے جڑے تنازعات کے باعث سلامتی کی صورتِ حال غیر یقینی ہے۔ پاکستان اس دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطہ کاری میں بھی کردار ادا کرتا رہا ہے۔
تاہم، اجلاس کے حتمی نتائج، کسی نئے سمجھوتے یا مشترکہ لائحۂ عمل کے بارے میں فی الحال کوئی باضابطہ تفصیل سامنے نہیں آئی۔ سعودی حکومت کے میڈیا دفتر اور پاکستان کے فوجی ترجمان ادارے نے بھی رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔
ملاقات کے بعد جاری ہونے والے بیانات اور ممکنہ فیصلوں سے واضح ہوگا کہ تینوں دفاعی معاہدے کے رکن ممالک اور ایران علاقائی کشیدگی کم کرنے اور سلامتی سے متعلق معاملات پر کس حد تک مشترکہ پیش رفت کر پاتے ہیں۔
شائع ہوا: 26 اکتوبر، 2026 کو 05:30 AM
آخری تدوین: 26 اکتوبر، 2026



