خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد پی ٹی آئی کا وفاق سے رابطہ، مذاکرات کے لیے علی امین گنڈاپور متحرک

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکراتی رابطے آگے بڑھانے کی کوشش تیز کر دی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پارلیمانی پارٹی کی جانب سے دیے گئے اختیار کے تحت وفاقی حکومت کی مذاکراتی ٹیم میں شامل دو اہم وزرا سے رابطہ کیا ہے
پشاور:پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے 20 اکتوبر کے اجلاس میں گنڈاپور کو مذاکرات کا مینڈیٹ دیا تھا۔ پارٹی کی توجہ اس وقت صوبے میں سہیل آفریدی کی حکومت کی بحالی اور گرفتار کارکنوں کی رہائی پر مرکوز ہے۔
پارٹی کے اندر مشاورت کے بعد علی امین گنڈاپور کو وفاقی حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے آگے بڑھنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس فیصلے کا مقصد گورنر راج کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتِ حال کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنا ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق گنڈاپور نے وفاقی مذاکراتی ٹیم میں شامل دو اہم وزرا سے بات کی ہے۔ تاہم، دستیاب اطلاعات میں ان وزرا کے نام اور رابطے کے دوران زیرِ بحث آنے والی تمام شرائط کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔
اس سے قبل 22 اکتوبر کو بھی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ گنڈاپور نے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا ہے، جبکہ وفاق کی جانب سے مشاورت کے بعد جواب دینے کا عندیہ دیا گیا تھا۔ اس لیے تازہ رابطے کو مذاکراتی عمل میں پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم کسی حتمی سمجھوتے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
سہیل آفریدی کی حکومت کی بحالی اور کارکنوں کی رہائی اولین ترجیح
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پارٹی کے مذاکراتی ایجنڈے میں دو معاملات کو مرکزی اہمیت حاصل ہے: سہیل آفریدی کی حکومت کی بحالی اور زیرِ حراست کارکنوں کی رہائی۔
پارٹی قیادت گورنر راج کے خاتمے اور صوبے میں اپنی حکومت کی بحالی کے لیے سیاسی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار دونوں فریقوں کے مؤقف، ممکنہ شرائط اور آئندہ رابطوں پر ہوگا۔
11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات کے نفاذ کے بعد صوبائی حکومت معطل کر دی گئی تھی۔ اس اقدام پر پی ٹی آئی نے اعتراض کیا، جبکہ وفاقی حکومت نے اسے صوبے کی سکیورٹی صورتِ حال سے جوڑا تھا۔
وفاقی حکومت کے جواب پر آئندہ پیش رفت کا انحصار
پارٹی کے تازہ رابطوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی وفاق کے ساتھ سیاسی معاملات طے کرنے کے لیے مذاکراتی راستہ کھلا رکھنا چاہتی ہے۔ تاہم، وفاقی حکومت کی جانب سے کسی حتمی جواب، باضابطہ مذاکراتی نشست یا متفقہ لائحۂ عمل کا اعلان سامنے آنا ابھی باقی ہے۔
آئندہ دنوں میں یہ واضح ہو سکے گا کہ دونوں فریق بات چیت کو باقاعدہ مذاکرات میں تبدیل کرتے ہیں یا نہیں، اور آیا حکومت کی بحالی اور کارکنوں کی رہائی جیسے بنیادی مطالبات پر کوئی پیش رفت ممکن ہوتی ہے۔
شائع ہوا: 26 اکتوبر، 2026 کو 05:51 AM
آخری تدوین: 26 اکتوبر، 2026



