ایف بی آئی کی خالصتان رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو جان سے مارنے کے ممکنہ خطرے پر وارننگ
محمد نعیم اختر16 اکتوبر، 2026
ایف بی آئی نے خالصتان رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو ممکنہ قاتلانہ حملے کے خطرے پر سکیورٹی وارننگ جاری کر دی۔ ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم 18 اکتوبر کو منعقد ہوگا
واشنگٹن: امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی (FBI) نے خالصتان تحریک کے رہنما اور تنظیم سکھ فار جسٹس (SFJ) کے جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنوں کو جان سے لاحق فوری خطرے کے پیش نظر 15 اکتوبر کو ’’ڈیوٹی ٹو وارن‘‘ سکیورٹی انتباہ جاری کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ انتباہ بالخصوص امریکہ سے کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن سفر کرنے کے حوالے سے دیا گیا، جہاں 18 اکتوبر کو خالصتان ریفرنڈم منعقد ہونا ہے۔
دوہری امریکی اور کینیڈین شہریت رکھنے والے پنوں کے مطابق، کینیڈین پولیس آر سی ایم پی (RCMP) بھی گزشتہ چند ہفتوں کے دوران انہیں جان سے مارنے کی دھمکیوں اور صوبہ اونٹاریو میں ان کی رہائش گاہ کو لاحق خطرات سے آگاہ کر چکی ہے۔
یہ سکیورٹی انتباہات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 13 اکتوبر کو دونوں ممالک کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (CEPA) کو آگے بڑھانے اور دوطرفہ سکیورٹی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔
بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے پر کینیڈین حکومت سے سوالات
گرپتونت سنگھ پنوں نے کینیڈا کی جانب سے بھارت کے ساتھ تجارتی اور سکیورٹی تعاون کو آگے بڑھانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک طرف کینیڈین پولیس خالصتان ریفرنڈم کے منتظمین کو جان اور گھروں کو لاحق خطرات سے خبردار کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب حکومت بھارت کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دے رہی ہے۔
پنوں کے مطابق، کینیڈا کو وضاحت کرنی چاہیے کہ آیا بھارت کی حکومت نے کینیڈا میں مبینہ قاتلانہ کارروائیاں بند کر دی ہیں یا کینیڈین حکومت نے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنا مؤقف تبدیل کر لیا ہے۔
ایف بی آئی کی وارننگ پر ردعمل دیتے ہوئے پنوں نے کہا: ’’پنجاب کی آزادی یا موت، درمیان میں کچھ نہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ممکن ہے بھارتی حکومت انہیں قتل کرنے میں کامیاب ہو جائے اور وہ خالصتان کو وجود میں آتا نہ دیکھ سکیں، تاہم ان کا عزم ہے کہ سکھوں کی اگلی نسل ایک آزاد پنجاب میں زندگی گزارے گی۔
پنوں نے مزید کہا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ وہ کسی ممکنہ قاتلانہ منصوبے سے بچ پاتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا قتل کی دھمکیوں کے ذریعے سکھ عوام کے حقِ خودارادیت کو روکا جا سکتا ہے۔
ان کے بقول، 18 اکتوبر کو ایڈمنٹن میں ہونے والا ریفرنڈم پنجاب کی آزادی کی پُرامن جدوجہد میں ایک اور باب کا اضافہ کرے گا۔
18 اکتوبر کو ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم ہوگا
سکھ فار جسٹس نے اعلان کیا ہے کہ منتظمین کو مسلسل دھمکیوں کے باوجود 18 اکتوبر کو ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم طے شدہ شیڈول کے مطابق منعقد ہوگا۔
یہ ایک غیر پابند عوامی رائے شماری ہے، جس میں حصہ لینے والے سکھ ووٹرز بھارت سے پنجاب کی آزادی اور خالصتان کے قیام کے حق میں یا مخالفت میں ووٹ دے سکتے ہیں۔
تنظیم کے مطابق، اس ریفرنڈم کا مقصد سکھ عوام کو اپنے سیاسی مستقبل اور حقِ خودارادیت کے بارے میں رائے دینے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ اس کے نتائج قانونی طور پر بھارت سے پنجاب کی علیحدگی کا فیصلہ نہیں ہوں گے۔

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 16 اکتوبر، 2026 کو 02:23 AM
آخری تدوین: 16 اکتوبر، 2026



