خیبرپختونخوا میں دو سال کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ، سکیورٹی رپورٹس میں اہم انکشافات

خیبرپختونخوا میں یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 تک دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔ سکیورٹی رپورٹس میں ڈرون حملوں، پولیس کی خالی آسامیوں اور سی ٹی ڈی کی استعداد میں کمی کی نشاندہی کی گئی ہے
اسلام آباد: خیبرپختونخوا میں گزشتہ دو برس کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ پولیس اور سکیورٹی اداروں کو جدید ہتھیاروں، تربیت، افرادی قوت اور آپریشنل وسائل کی کمی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں خیبرپختونخوا پولیس اور حساس اداروں کی جانب سے تیار کردہ دو خصوصی سکیورٹی رپورٹس پیش کی گئیں، جن میں صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، سکیورٹی اداروں کی استعداد اور انسدادِ دہشت گردی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 تک خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ میں دہشت گرد نیٹ ورکس، مقامی سہولت کاری اور غیر قانونی سرگرمیوں کے باہمی روابط کو بھی امن و امان کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
2026 میں 73 فیصد حملوں کا نشانہ پولیس اور سکیورٹی ادارے
رپورٹ کے مطابق 2026 میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں سے 73 فیصد کا نشانہ پولیس اور سکیورٹی ادارے بنے۔ اس صورتحال کو صوبے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر اور مقامی سہولت کاروں کو خطرات میں اضافے کے عوامل میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں صوبائی حکومت کی پالیسیوں، تیاری اور مؤثر انسدادِ دہشت گردی اقدامات میں کمی پر بھی تنقید کی گئی ہے۔
دہشت گردوں کے ڈرون حملوں میں نمایاں اضافہ
سکیورٹی رپورٹ میں دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون کے استعمال میں اضافے کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2024 میں پولیس اور سکیورٹی اداروں پر کوئی ڈرون حملہ رپورٹ نہیں ہوا، جبکہ 2026 میں ایسے حملوں کی تعداد 170 تک پہنچ گئی۔ رپورٹ میں ایک سال کے دوران ڈرون حملوں میں تقریباً 107 فیصد اضافے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

اسی طرح بارودی حملوں میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 2025 میں دیسی ساختہ بموں (آئی ای ڈی) کے حملوں کی تعداد 181 تک پہنچ گئی، جبکہ ستمبر 2026 تک 159 حملے ریکارڈ کیے جا چکے تھے۔
خیبرپختونخوا پولیس میں 9 ہزار سے زائد آسامیاں خالی
رپورٹ میں خیبرپختونخوا پولیس کو درپیش افرادی قوت اور وسائل کی کمی پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق صوبائی پولیس میں 9 ہزار سے زائد آسامیاں خالی ہیں، جبکہ پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو جدید ہتھیاروں اور ضروری آپریشنل سازوسامان کی کمی کا سامنا ہے۔

دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ جنوبی اضلاع میں بکتر بند اور محفوظ گاڑیوں کی کمی کو بھی اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان گاڑیوں کی عدم دستیابی سے پولیس کی نقل و حرکت اور آپریشنل صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
مزید برآں، پولیس اور سی ٹی ڈی کے پاس جدید نگرانی اور انٹیلی جنس آلات ناکافی ہیں، جبکہ نائٹ ویژن اور تھرمل امیجنگ آلات بھی مطلوبہ تعداد میں دستیاب نہیں۔
سی ٹی ڈی کو افرادی قوت اور جدید سہولیات کی کمی کا سامنا
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی ٹی ڈی کو خصوصی تربیت یافتہ اہلکاروں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ خصوصی انسدادِ دہشت گردی فورس ہونے کے باوجود اسے افرادی قوت کے لیے معمول کی پولیس پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

سی ٹی ڈی کے ضلعی دفاتر، آپریشنل سہولیات اور خصوصی انفراسٹرکچر کو بھی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے بڑھتے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے سی ٹی ڈی کو جدید وسائل، خصوصی تربیت اور مضبوط انفراسٹرکچر فراہم کرنا ضروری ہے۔
سیف سٹی منصوبہ صرف پشاور تک محدود
سکیورٹی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پورے خیبرپختونخوا کے لیے سیف سٹی منصوبہ تاحال پشاور تک محدود ہے، جبکہ ضم شدہ اضلاع کی پولیس کو تربیت، وسائل اور استعدادِ کار کے حوالے سے مشکلات درپیش ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے بدلتے طریقۂ کار کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت میں اضافہ ناگزیر ہے۔ جدید نگرانی کے نظام، بہتر انٹیلی جنس، محفوظ گاڑیوں اور خصوصی تربیت کو سکیورٹی اقدامات کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔
کابینہ کمیٹی کا اظہارِ تشویش
رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، ادارہ جاتی کمزوریوں اور گورننس کی صورتحال پر کابینہ کمیٹی نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کمیٹی کے جائزے میں سکیورٹی اداروں کی استعداد، صوبائی سطح پر تیاری اور انسدادِ دہشت گردی اقدامات میں موجود خامیوں کا تفصیلی احاطہ کیا گیا۔
رپورٹس میں مجموعی طور پر اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے لیے پولیس اور سی ٹی ڈی کی افرادی قوت پوری کرنے، جدید ٹیکنالوجی اور سازوسامان کی فراہمی، خصوصی تربیت اور سکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
شائع ہوا: 11 اکتوبر، 2026 کو 06:05 AM
آخری تدوین: 11 اکتوبر، 2026



