ایران کا امریکا سے خطے میں عدم استحکام پر مبنی مداخلت ختم کرنے کا مطالبہ

ایران نے انصار اللہ سے متعلق امریکی الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن میں امن بمباری اور بیرونی دباؤ سے نہیں بلکہ حقیقی مذاکرات اور متفقہ روڈ میپ کے ذریعے قائم ہوسکتا ہے۔
تہران:ایران نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے عدم استحکام پر مبنی فوجی مداخلت اور حاکمانہ پالیسیوں کا خاتمہ کیا جائے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یمن کی انصار اللہ سے متعلق امریکی وزیر خارجہ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انصار اللہ یمن کی ایک خودمختار تنظیم ہے جو اپنے فیصلے خود کرتی ہے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق انصار اللہ نہ کسی سے احکامات لیتی ہے اور نہ ہی کسی ملک کی پراکسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن کی انصار اللہ اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کرتی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ امریکی فوجی مداخلت اور حاکمانہ پالیسیوں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر واشنگٹن حقیقی معنوں میں امن چاہتا ہے تو اسے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی مداخلت ختم کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ بموں اور بیرونی دباؤ کے ذریعے یمن میں پائیدار امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔ یمن کے مسئلے کا حل تمام فریقوں کے اتفاقِ رائے سے تیار کیے گئے روڈ میپ کی بنیاد پر حقیقی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے بیرونی دباؤ اور فوجی کارروائیوں کے بجائے سیاسی مذاکرات اور متعلقہ فریقوں کے درمیان اتفاقِ رائے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
شائع ہوا: 10 ستمبر، 2026 کو 03:47 AM
آخری تدوین: 10 ستمبر، 2026



