ایران نے نئی امریکی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشتگردی قرار دے دیا

ایران نے نئی امریکی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشتگردی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ سے فوری مسترد کرنے کا مطالبہ کردیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ پابندیوں سے خوراک، صحت اور دیگر بنیادی ضروریات سمیت عوام کے بنیادی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں
تہران: ایران نے امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشتگردی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ان جبری اور یکطرفہ اقدامات کو فوری طور پر مسترد کیا جائے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، سلامتی کونسل اور رکن ممالک کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں امریکا کی نئی پابندیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ امریکا جنگ اور دیگر دباؤ کے ذرائع میں ناکامی کے بعد اب ایران کے خلاف معاشی حربوں کا استعمال کر رہا ہے۔ ایران نے کہا کہ یکطرفہ پابندیوں کا اصل نشانہ عام شہری بن رہے ہیں۔
عباس عراقچی کے مطابق نئی پابندیوں کے نتیجے میں خوراک، صحت اور دیگر بنیادی ضروریات تک عوام کی رسائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران ان جبری اور یکطرفہ پابندیوں کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کے خلاف واضح اور مؤثر موقف اختیار کرے۔
ایران نے اقوام متحدہ اور رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اقتصادی دباؤ اور پابندیوں کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی کا نوٹس لیں اور ایرانی عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں۔
شائع ہوا: 27 اگست، 2026 کو 06:10 AM
آخری تدوین: 27 اگست، 2026



