مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی پر مذاکرات میں ایران کی شمولیت درست پیشرفت ہے، روسی سفیر

پاکستان میں روسی سفیر البرٹ خوریف نے مشرقِ وسطیٰ کی علاقائی سلامتی کے مذاکرات میں ایران کی شمولیت کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے پُرامن حل کے لیے روس کی ثالثی میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے
اسلام آباد: پاکستان میں تعینات روسی سفیر البرٹ خوریف نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی سلامتی کے مسائل پر مذاکرات میں ایران کی شمولیت درست سمت میں پیشرفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی سلامتی سے متعلق بات چیت میں تمام متعلقہ فریقوں کو مساوی شرکت کا موقع ملنا چاہیے تاکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
روسی سفیر کے مطابق روس بھی مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی سلامتی کے حوالے سے اپنا تصور پیش کر چکا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں سلامتی کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ ممالک کی شمولیت اور باہمی مذاکرات اہمیت رکھتے ہیں۔
البرٹ خوریف نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، دھمکیوں اور سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات باعثِ تشویش ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی لانے اور مسائل کے حل کے لیے نتیجہ خیز مذاکرات کی طرف پیشرفت کریں۔
روسی سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے، تاکہ سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے اور دہشت گردی سے متعلق خدشات کا مؤثر طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔
البرٹ خوریف کے بیان کے مطابق روس خطے میں سلامتی کے مسائل کے حل اور پاکستان و افغانستان کے درمیان پُرامن روابط کے فروغ کے لیے تعاون کرنے پر آمادہ ہے۔ ان کے اس مؤقف میں علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، تمام متعلقہ فریقوں کی شرکت اور کشیدگی میں کمی کو اہم قرار دیا گیا ہے۔
شائع ہوا: 28 اکتوبر، 2026 کو 03:44 AM
آخری تدوین: 28 اکتوبر، 2026



