ایران کا جوابی وار، امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں کی بارش

ایران نے تازہ امریکی حملوں کے جواب میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کردیئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران، اصفہان، تبریز اور خرم آباد سے درجنوں میزائل داغے گئے جبکہ اردن میں امریکی فوجی اڈے پر دو درجن سے زائد میزائل فائر کیے گئے۔ روسی میڈیا کے مطابق اردن میں امریکی دفاعی نظام ایرانی میزائل روکنے کے لیے فعال ہوگیا
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی میں مزید شدت آگئی ہے۔ روسی میڈیا کے دعوے کے مطابق ایران نے تازہ امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اصفہان، تہران، تبریز اور خرم آباد سے امریکی فوجی اہداف کی جانب درجنوں میزائل داغے گئے، جبکہ اردن میں موجود ایک امریکی فوجی اڈے پر دو درجن سے زائد میزائل فائر کیے گئے۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی اڈے کے قریب متعدد دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ روسی میڈیا کے مطابق ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے اردن میں امریکی دفاعی نظام بھی فعال ہوگیا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ، سینٹ کام، کے مطابق امریکی فورسز نے ایران کے پانچ خام تیل بردار بحری جہازوں کو تباہ کیا۔ سینٹ کام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے دو روز کے دوران ایک امریکی بحری جنگی جہاز کو دو مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کے بعد کی گئی۔
ادھر ایرانی بحریہ نے کویت اور بحرین کی بندرگاہوں سے آئل ٹینکروں کے عملے کو انخلا کی وارننگ دی ہے، خصوصاً ان جہازوں سے جہاں امریکی اہلکار موجود ہیں۔
تازہ حملوں کے بعد خطے میں فوجی کشیدگی کے ساتھ ساتھ خلیج میں بحری آمدورفت اور عالمی تیل کی ترسیل کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ تاہم، ایرانی میزائل حملوں اور ان سے ہونے والے نقصان سے متعلق تمام دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
شائع ہوا: 9 ستمبر، 2026 کو 03:21 AM
آخری تدوین: 9 ستمبر، 2026



