امریکا کی 8 ریاستوں میں اوپن اے آئی کے خلاف مقدمات دائر، چیٹ جی پی ٹی سے بچوں کو نقصان پہنچنے کا الزام

امریکا کی 8 ریاستوں نے اوپن اے آئی کے خلاف مقدمات دائر کر دیے۔ درخواستوں میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے استعمال سے بچوں کو نقصان پہنچا اور انہیں خود یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کے طریقے بتائے گئے
واشنگٹن: امریکا کی 8 ریاستوں نے مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی کے خلاف مختلف عدالتوں میں مقدمات دائر کر دیے ہیں۔ مقدمات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے استعمال سے بچوں کو نقصان پہنچا اور بعض صورتوں میں انہیں خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کے طریقے بتائے گئے۔
خبر ایجنسی کے مطابق یہ مقدمات آئیووا، کنساس سمیت امریکا کی چھ دیگر ریاستوں کی جانب سے دائر کیے گئے ہیں۔ درخواستوں میں چیٹ جی پی ٹی کے بچوں اور کم عمر صارفین پر ممکنہ منفی اثرات سے متعلق خدشات اٹھائے گئے ہیں۔
چیٹ جی پی ٹی کے استعمال سے بچوں کو نقصان پہنچنے کا الزام
عدالتوں میں دائر درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کے نتیجے میں بچوں کو نقصان پہنچا۔ درخواست گزاروں نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اس چیٹ بوٹ نے بعض مواقع پر بچوں کو خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کے طریقوں سے متعلق معلومات فراہم کیں۔
ان مقدمات میں بچوں کی آن لائن حفاظت اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں، بالخصوص اس حوالے سے کہ کم عمر صارفین کے لیے ایسے نظاموں میں حفاظتی اقدامات کس حد تک مؤثر ہونے چاہییں۔
مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے لیے حفاظتی اقدامات پر سوالات
ان مقدمات کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے بچوں پر ممکنہ اثرات اور کمپنیوں کی ذمہ داریوں سے متعلق بحث مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ ماہرین کے نزدیک کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے مؤثر حفاظتی نظام، مناسب نگرانی اور نقصان دہ مواد کی روک تھام اہم معاملات ہیں۔
تاہم عدالتوں میں عائد کیے گئے الزامات کو ثابت شدہ حقائق نہیں سمجھا جا سکتا۔ مقدمات میں سامنے آنے والے دعوؤں کی قانونی حیثیت کا تعین عدالتی کارروائی اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔
شائع ہوا: 15 اکتوبر، 2026 کو 04:50 AM
آخری تدوین: 15 اکتوبر، 2026



