وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

لیزا کُک کے وکیل کا ٹرمپ انتظامیہ کی تحقیقات پر اعتراض، غیر جانب داری پر سوالات

محمد نعیم اخترمحمد نعیم اختر14 اکتوبر، 2026
لیزا کُک کے وکیل کا ٹرمپ انتظامیہ کی تحقیقات پر اعتراض، غیر جانب داری پر سوالات

امریکی فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کُک کے وکیل نے ٹرمپ انتظامیہ کی تحقیقات کے طریقۂ کار اور غیر جانب داری پر اعتراض اٹھا دیا۔ کیس کی سماعت 5 نومبر 2026 کو وائٹ ہاؤس میں مقرر ہے

واشنگٹن: امریکی فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کُک کے وکیل نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انہیں عہدے سے ہٹانے کی تازہ کوشش کے تناظر میں وائٹ ہاؤس کی تحقیقات کے طریقۂ کار اور غیر جانب داری پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، لیزا کُک کے وکیل ایبے لوویل نے ایک خط میں تحقیقاتی عمل کی شفافیت، تحقیقاتی کمیٹی کی غیر جانب داری اور الزامات کے حق میں پیش کیے گئے شواہد سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

لیزا کُک پر ہاؤسنگ قرضوں میں مبینہ غلط بیانی کے الزامات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لیزا کُک پر رہن اور ہاؤسنگ قرضوں کی درخواستوں میں مبینہ غلط بیانی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ تاہم، لیزا کُک ان الزامات کو مسترد کرتی ہیں اور انہیں عہدے سے ہٹانے کی کوشش کے خلاف قانونی کارروائی بھی کر چکی ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی ہے، جس میں اقتصادی مشیر کیون ہاسیٹ بھی شامل ہیں۔

لیزا کُک کے وکیل کا مؤقف ہے کہ کمیٹی کی غیر جانب داری پر سوالات اٹھتے ہیں، خصوصاً اس لیے کہ کیون ہاسیٹ ماضی میں لیزا کُک پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈال چکے ہیں۔ وکیل کے مطابق، تحقیقات میں غیر جانب داری اور شواہد کی شفافیت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

سماعت 5 نومبر کو مقرر، تاریخ تبدیل کرنے کی درخواست

حکام کے مطابق، اس معاملے پر سماعت 5 نومبر 2026 کو وائٹ ہاؤس میں مقرر کی گئی ہے۔ لیزا کُک کے وکیل نے اپنے مؤکل کی یورپ میں پہلے سے طے شدہ مصروفیات کا حوالہ دیتے ہوئے سماعت کی تاریخ تبدیل کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔

اس معاملے میں تحقیقات کا طریقۂ کار اور کمیٹی کی غیر جانب داری اہم قانونی نکات بن گئے ہیں، جبکہ لیزا کُک کی جانب سے الزامات کی تردید اور قانونی مزاحمت کے باعث یہ تنازع مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

فیڈرل ریزرو کی خودمختاری پر بحث

فیڈرل ریزرو امریکہ کا مرکزی بینک ہے، جو ملک کی مالیاتی پالیسی اور شرحِ سود سے متعلق اہم فیصلے کرتا ہے۔ اس کے عہدیداروں کو عہدے سے ہٹانے کے اختیارات کا معاملہ ادارے کی خودمختاری اور انتظامی اختیارات کی حدود کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

لیزا کُک کے معاملے میں قانونی کارروائی اور تحقیقات کے نتائج اس بحث پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ امریکی صدر کے پاس فیڈرل ریزرو کے عہدیداروں کو عہدے سے ہٹانے کے لیے کس حد تک اختیار موجود ہے۔

شیئر کریں:
محمد نعیم اختر
محمد نعیم اختر

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں

شائع ہوا: 14 اکتوبر، 2026 کو 06:31 AM

آخری تدوین: 14 اکتوبر، 2026

متعلقہ مضامین

امریکی فوج کے کیتھولک اہلکاروں کو نڈال حسن کی سزائے موت کے عمل میں حصہ نہ لینے کی ہدایت
امریکا

امریکی فوج کے کیتھولک اہلکاروں کو نڈال حسن کی سزائے موت کے عمل میں حصہ نہ لینے کی ہدایت

آرچ بشپ ٹموتھی بروگلیو نے امریکی فوج کے کیتھولک اہلکاروں کو نڈال حسن کی سزائے موت کے عمل میں حصہ نہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے سزائے موت کی براہ راست نشریات کے مجوزہ منصوبے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا

Web Desk13 اکتوبر، 2026
امریکی رکنِ کانگریس الہان عمر کی رہائش گاہ پر تلاشی
امریکا

امریکی رکنِ کانگریس الہان عمر کی رہائش گاہ پر تلاشی

امریکی رکنِ کانگریس الہان عمر کی واشنگٹن ڈی سی میں واقع رہائش گاہ پر تلاشی کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تحقیقات کا تعلق امیگریشن دستاویزات سے ہے، تاہم حکام نے تفصیلات جاری نہیں کیں اور کسی جرم کے ثابت ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی

محمد نعیم اختر13 اکتوبر، 2026
ٹرمپ نے ایران کی روس اور چین سے مدد لینے کی خبروں کو مسترد کر دیا
امریکا

ٹرمپ نے ایران کی روس اور چین سے مدد لینے کی خبروں کو مسترد کر دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو روس اور چین کی جانب سے بڑے پیمانے پر مدد فراہم کیے جانے کی خبروں کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ماسکو یا بیجنگ نے تہران کی مدد کی تو انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے

Web Desk13 اکتوبر، 2026