‘آج کا دن ہمارے لیے آسان نہیں تھا،’ وفاقی حکومت کا خیبرپختونخوا کیلئے 11 رکنی کونسل کا اعلان

محسن نقوی نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں سے گزشتہ رات پونے 12 بجے تک رابطہ رہا، مگر تجاویز کا جواب نہیں ملا۔ وزیر داخلہ نے مذاکرات کے ڈرافٹ، سہیل آفریدی سے ملاقاتوں، خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی اور دہشت گردی کی صورتحال سے متعلق اہم دعوے کیے
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ آسان نہیں تھا، وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو اعتماد میں لینے کے لیے ایک ماہ سے زائد عرصے تک کوششیں کیں، تاہم مذاکرات اور مسلسل رابطوں کے باوجود اتفاق رائے پیدا نہ ہوسکا۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور ثمر ہارون بلور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ حکومت کی کوشش تھی کہ خیبرپختونخوا حکومت کو ساتھ ملا کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا جائے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ تمام حکومتوں کو مل کر لڑنی چاہیے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے اعلان سے قبل ہی اس کے بیشتر مطالبات پر پیشرفت جاری تھی اور ملاقاتوں سمیت مختلف امور پر بات چیت ہورہی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب مسائل کے حل کے لیے کوششیں جاری تھیں تو پھر لانگ مارچ کا اعلان کیوں کیا گیا؟
محسن نقوی کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان دو روز تک مذاکرات ہوئے، مذاکراتی مسودے میں چار مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں اور پی ٹی آئی کی جانب سے تجویز کردہ پانچ سے چھ ترامیم بھی قبول کرلی گئیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بیشتر نکات پر اتفاق کے باوجود آخری مرحلے میں نیا مسودہ سامنے آگیا، جبکہ ایک پیراگراف پر تجاویز طلب کرنے کے باوجود پی ٹی آئی کی جانب سے جواب نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں، تاہم ان میں صرف دہشت گردی کے معاملے پر گفتگو کی گئی۔ وزیر داخلہ کے مطابق پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے بھی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
محسن نقوی نے خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں امن و امان کی صورتحال کو انتہائی خراب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں میں حالات معمول پر لانے کے لیے مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی کوششوں کے باوجود مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔
اعظم نذیر تارڑ: دہشت گردی اور انتہا پسندی میں تقریباً 200 فیصد اضافہ
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے واقعات میں تقریباً 200 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق زیادہ تر حملوں میں پاک فوج، خیبرپختونخوا پولیس اور علما کرام کو نشانہ بنایا گیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں سکیورٹی صورتحال سنگین ہے اور دہشت گردی کے اثرات دوسرے صوبوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ملکی معیشت کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ دوسری طرف دہشت گردی کے بڑھتے واقعات سرمایہ کاری کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر قانون کے مطابق خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے پر وزیراعظم کی صدارت میں وفاقی کابینہ نے مشاورت کی اور تفصیلی غور و خوض کے بعد آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت اقدام کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات رات ڈھائی بجے تک جاری رہے، تاہم صوبے کی صورتحال میں بہتری کے لیے آئینی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق ایمرجنسی کے بعد گورنر کو صوبائی حکومت کے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں اور 11 رکنی مشاورتی کونسل کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ایمرجنسی کے فیصلے کی آئینی تقاضوں کے مطابق توثیق کے لیے پارلیمان سے رجوع کیا جائے گا اور اس معاملے کو پارلیمنٹ کے سامنے رکھا جائے گا۔
عطا اللہ تارڑ کی پی ٹی آئی پر تنقید
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی پر دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات میں غیر سنجیدگی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا کے انتظامی حالات تشویشناک ہوچکے تھے۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق خیبرپختونخوا میں مختلف سیاسی جماعتوں کو بھی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
حکومتی رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں ایمرجنسی کے نفاذ کو صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ضروری قرار دیا، جبکہ محسن نقوی نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار پی ٹی آئی کے جواب نہ دینے کو ٹھہرایا۔ ان الزامات اور حکومتی مؤقف پر پی ٹی آئی کا ردعمل اس خبر میں شامل فراہم کردہ متن میں موجود نہیں۔
شائع ہوا: 11 اکتوبر، 2026 کو 01:45 PM
آخری تدوین: 11 اکتوبر، 2026



