موساد سربراہ کا شامی وزیر خارجہ سے رابطہ، ترک فوجی موجودگی پر گفتگو

موساد سربراہ رومان گوفمان نے شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں شام میں ترکیہ کی فوجی تعیناتی، اسلحے اور ڈرونز کی فراہمی پر اسرائیلی تحفظات زیر بحث آئے
موساد سربراہ کا شامی وزیر خارجہ سے رابطہ، شام میں ترک فوجی موجودگی پر گفتگو
دمشق: اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ رومان گوفمان نے شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا، جس میں شام میں ترکیہ کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی سمیت خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
خبر ایجنسی کے مطابق یہ رابطہ شام میں اسرائیلی فضائی حملوں سے چند روز قبل 14 اگست کو ہوا تھا۔ گفتگو کے دوران شام میں ترکیہ کی جانب سے فوجی تعیناتی، اسلحے اور ڈرونز کی فراہمی سمیت دیگر فوجی منصوبوں کا معاملہ زیر بحث آیا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے شامی حکومت کو شام میں ترکیہ کی فوجی موجودگی میں ممکنہ اضافے پر اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا تھا۔
بعد ازاں 18 اگست کو اسرائیل نے شمالی شام میں ابو الظہور ایئربیس پر فضائی حملے کیے۔ ان حملوں کے بعد شام میں اسرائیل اور ترکیہ کی سرگرمیوں کے حوالے سے علاقائی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس سے قبل کہا تھا کہ اسرائیل شام میں ترکیہ کی ایسی فوجی موجودگی برداشت نہیں کرے گا جو اسرائیل کے لیے خطرہ بنے۔
شام میں ترکیہ کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں اور اسرائیل کے تحفظات کے باعث خطے میں طاقت کے توازن اور سکیورٹی صورتحال پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 20 اگست، 2026 کو 04:13 AM
آخری تدوین: 20 اگست، 2026



