نیوزی لینڈ کی فوج کے سربراہ مستعفی، نامناسب تعلق چھپانے اور دفاعی فورس کی اقدار کی خلاف ورزی کا اعتراف

نیوزی لینڈ کی فوج کے سربراہ ایئر مارشل ٹونی ڈیویز نے ایک یونٹ کی کمان کے دوران نامناسب تعلق اور اس کا بروقت انکشاف نہ کرنے پر استعفیٰ دے دیا۔ وزیر دفاع پال گولڈسمتھ نے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عہدے پر ان کا برقرار رہنا ممکن نہیں تھا۔ معاملے کو مزید جائزے کے لیے ایک آزاد نگران ادارے کے سپرد کردیا گیا ہے
ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کی فوج کے سربراہ ایئر مارشل ٹونی ڈیویز نے ماضی میں ایک یونٹ کی کمان کے دوران قائم ہونے والے نامناسب تعلق اور اس معاملے کو بروقت ظاہر نہ کرنے پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
نیوزی لینڈ کی دفاعی فورس کے مطابق ٹونی ڈیویز نے ذاتی وجوہات کی بنیاد پر استعفیٰ دیا، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کے ماضی کے بعض اقدامات غلط تھے اور وہ ان کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔
ایئر مارشل ٹونی ڈیویز نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی غلطیاں دفاعی فورس کی اقدار کے منافی تھیں۔ ان کے مطابق معاملہ اس نامناسب تعلق سے متعلق ہے جو ایک یونٹ کی کمان کے دوران قائم ہوا تھا، اور انہیں افسوس ہے کہ موقع ملنے کے باوجود انہوں نے اس تعلق کا انکشاف نہیں کیا۔
نیوزی لینڈ کی دفاعی فورس نے بتایا کہ ٹونی ڈیویز نے اپنی نجی زندگی کے احترام کی درخواست کی ہے اور اس وقت ان کی تمام تر توجہ اپنے خاندان پر مرکوز ہے۔
فوجی حکام کے مطابق اس معاملے کو مزید جائزے کے لیے ایک آزاد نگران ادارے کے سپرد کردیا گیا ہے، جو متعلقہ امور کا جائزہ لے گا۔
دوسری جانب نیوزی لینڈ کے وزیر دفاع پال گولڈسمتھ نے کہا کہ استعفے کے پس منظر میں سامنے آنے والے حالات مسلح افواج کے بہت سے اہلکاروں کے لیے شدید مایوسی کا باعث ہوں گے۔
وزیر دفاع کے مطابق اس معاملے میں بنیادی تشویش دیانت داری سے متعلق ہے، کیونکہ متعلقہ افسر نے ان امور کا بروقت انکشاف نہیں کیا تھا۔
پال گولڈسمتھ نے مزید کہا کہ وہ اور ٹونی ڈیویز دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ حالات میں ان کا عہدے پر برقرار رہنا ممکن نہیں رہا۔
ٹونی ڈیویز کے استعفے کے بعد معاملے کی مزید جانچ پڑتال کی جائے گی، جبکہ آزاد نگران ادارے کا جائزہ اس حوالے سے اہمیت کا حامل ہوگا۔
شائع ہوا: 23 اکتوبر، 2026 کو 07:21 AM
آخری تدوین: 23 اکتوبر، 2026



