ٹرمپ انتظامیہ کی پانچ بڑے امریکی ٹی وی نیٹ ورکس کے خلاف تحقیقات
محمد نعیم اختر11 اکتوبر، 2026
امریکی محکمۂ انصاف نے ABC، CBS، CNN، NBC اور فاکس نیوز کے خلاف مبینہ طور پر مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی کی تحقیقات شروع کر دیں۔ معاملے نے امریکا میں آزادیٔ صحافت، حکومتی احتساب اور آئینی حقوق سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ذرائع ابلاغ کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، جہاں امریکی محکمۂ انصاف نے پانچ بڑے ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کے خلاف مبینہ طور پر مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی کے معاملے پر تحقیقات شروع کردی ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد امریکا میں آزادیٔ صحافت اور حکومتی اختیارات کے استعمال پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تحقیقات کا مرکز یہ معاملہ ہے کہ آیا اے بی سی ، سی بی ایس ، سی این این، این بی سی اور فاکس نیوز نے وائٹ ہاؤس کی مشترکہ ٹیلی ویژن کوریج عارضی طور پر معطل کرکے امریکی وفاقی قانون کی خلاف ورزی کی یا نہیں۔
یہ تحقیقات وائٹ ہاؤس اور متعدد میڈیا اداروں کے درمیان صحافیوں کی رسائی اور کوریج سے متعلق جاری تنازع کے تناظر میں سامنے آئی ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پابندی کے خلاف میڈیا اداروں کا ردعمل
رپورٹ کے مطابق ستمبر 2026 میں وائٹ ہاؤس نے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں کی رسائی محدود کردی تھی۔ متاثرہ میڈیا اداروں نے اس اقدام کو آزادیٔ صحافت اور امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت حاصل حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کی۔
اس فیصلے کے بعد وائٹ ہاؤس کی ٹیلی ویژن پریس پول میں شامل پانچ بڑے نیٹ ورکس نے عارضی طور پر مشترکہ کوریج معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ کسی میڈیا ادارے کو اس کی صحافتی رپورٹنگ پر حکومتی اعتراضات کی بنیاد پر کوریج سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔۔
شرمین ایکٹ کے تحت تحقیقات
امریکی محکمۂ انصاف کی ترجمان ایملی کووِنگٹن کے مطابق، ٹیلی ویژن پریس پول کے ارکان نے وائٹ ہاؤس کی تقریبات کی کوریج کا بائیکاٹ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارتی حریفوں کی جانب سے مشترکہ بائیکاٹ بعض حالات میں امریکی مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی بن سکتا ہے۔
حکام نے اس معاملے میں شرمین ایکٹ (Sherman Act) کا حوالہ دیا ہے۔ یہ امریکی قانون کاروباری اداروں کے درمیان غیر قانونی ملی بھگت اور مسابقت کو محدود کرنے والے بعض معاہدوں کے خلاف کارروائی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
تاہم، تحقیقات شروع ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ ٹیلی ویژن نیٹ ورکس قانون شکنی کے مرتکب ثابت ہوچکے ہیں۔ محکمۂ انصاف اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا مشترکہ کوریج معطل کرنے کے فیصلے میں وفاقی قانون کی خلاف ورزی ہوئی تھی یا نہیں۔
عدالت نے صحافیوں کی رسائی بحال کرنے کا حکم دیا تھا
وائٹ ہاؤس کی پابندی کے خلاف سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی وفاقی جج ٹموتھی کیلی نے 24 ستمبر کو عارضی حکم جاری کرتے ہوئے صحافیوں کی رسائی بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔ اکتوبر میں بھی اس معاملے پر عدالتی کارروائی جاری رہی۔
متاثرہ میڈیا اداروں کے وکلا کا مؤقف ہے کہ حکومت نے تنقیدی صحافتی رپورٹنگ کی وجہ سے ان کے اداروں کو نشانہ بنایا، جو آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کے آئینی تحفظات سے متصادم ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب حکومتی وکلا نے صحافتی معیار، پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور قومی سلامتی سے متعلق خدشات کو پابندی کے جواز کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس تنازع پر حتمی عدالتی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 11 اکتوبر، 2026 کو 06:32 AM
آخری تدوین: 11 اکتوبر، 2026



