بھارت میں 13 کروڑ افراد کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج کرنے پر امریکی رکنِ کانگریس کا اظہارِ تشویش
شہلا نعیم16 اکتوبر، 2026
امریکی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال نے بھارت میں مبینہ طور پر 13 کروڑ افراد کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج کرنے کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بھارتی عوام کے پُرامن احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے اس معاملے کو ووٹ کے حق اور جمہوری عمل سے جوڑا۔ بھارتی صحافی سوہاسنی حیدر نے بھی ان کا بیان سوشل میڈیا پر شیئر کیا
واشنگٹن/نئی دہلی: امریکی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال نے بھارت میں مبینہ طور پر 13 کروڑ افراد کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج کرنے کے اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹ دینے کے حق کا تحفظ جمہوری نظام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
پرامیلا جے پال کے مطابق، بھارت میں ووٹر لسٹوں سے نام خارج کرنے کا مبینہ طریقۂ کار بظاہر ان اقدامات سے مشابہت رکھتا ہے جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکا میں ووٹ دینے کے حق کو کمزور کرنے کے لیے اپنا رہی ہے۔
بھارتی عوام کے پُرامن احتجاج کی حمایت
امریکی قانون ساز پرامیلا جے پال نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ بھارت میں جمہوریت مخالف اقدامات کے خلاف پُرامن احتجاج کرنے والے بھارتی عوام کے ساتھ کھڑی ہیں۔
ان کے بیان میں ووٹر لسٹوں کی تیاری اور نظرثانی کے عمل، شہریوں کے حقِ رائے دہی اور جمہوری حقوق کے تحفظ سے متعلق خدشات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
بھارتی صحافی سوہاسنی حیدر نے بھی بیان شیئر کر دیا
دوسری جانب معروف بھارتی صحافی سوہاسنی حیدر نے بھی پرامیلا جے پال کا بیان سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جس کے بعد یہ معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا۔
بھارت میں ووٹر لسٹوں سے متعلق اقدامات پر اٹھائے گئے سوالات نے انتخابی عمل میں شفافیت، ووٹرز کے حقوق اور انتخابی فہرستوں کی درستگی سے متعلق بحث کو نمایاں کیا ہے۔
تاہم، 13 کروڑ افراد کے نام خارج کیے جانے کے دعوے کی آزادانہ تصدیق اور اس عمل کی سرکاری تفصیلات سامنے آنا ضروری ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کتنے نام واقعی خارج کیے گئے، اس کی وجوہات کیا تھیں اور متاثرہ افراد کے پاس اپنے ووٹ کا حق بحال کرانے کے لیے کیا طریقۂ کار موجود ہے۔

شہلا نعیم وائسز آف امریکا کیلئے واشنگٹن ڈی سی میں سینئر پروڈیوسر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہی ہیں
شائع ہوا: 16 اکتوبر، 2026 کو 07:18 AM
آخری تدوین: 16 اکتوبر، 2026



