صدر ٹرمپ کا امریکی شرحِ سود ایک فیصد یا اس سے کم کرنے کا مطالبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شرحِ سود ایک فیصد یا اس سے کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی مضبوط کریڈٹ پوزیشن اور بڑھتی سرمایہ کاری کم شرحِ سود کا جواز ہے
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو سے امریکی شرحِ سود میں نمایاں کمی کرتے ہوئے اسے ایک فیصد یا اس سے بھی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکا دنیا میں سب سے بہتر کریڈٹ رکھتا ہے اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے باعث معاشی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ان کے مطابق ان حالات میں شرحِ سود بہت کم ہونی چاہیے۔
صدر ٹرمپ کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فیڈرل ریزرو نے 16 ستمبر کو شرحِ سود میں 0.25 فیصد پوائنٹ اضافہ کرتے ہوئے ہدف کی حد 3.75 سے 4 فیصد کر دی۔ یہ 2023 کے بعد امریکی شرحِ سود میں پہلا اضافہ ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں امریکی تجارتی خسارے کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا ان ممالک کے ساتھ تجارت روک دے جن کے ساتھ اس کا تجارتی خسارہ ہے تو ملک کو سالانہ کم از کم 1.5 ٹریلین ڈالر حاصل ہو سکتے ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا تقریباً دنیا کے ہر ملک کا بوجھ اٹھا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے فیڈرل ریزرو پر زور دیا کہ امریکا میں شرحِ سود جلد از جلد کم کی جائے۔
دوسری جانب فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے شرحِ سود میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ افراطِ زر اب بھی بلند ہے اور اسے قابو میں لانے کے لیے مرکزی بینک کو اپنی مالیاتی پالیسی پر توجہ مرکوز رکھنا ضروری ہے۔
شرحِ سود سے متعلق صدر ٹرمپ اور فیڈرل ریزرو کا مؤقف امریکی معیشت، افراطِ زر اور مستقبل کی مالیاتی پالیسی کے حوالے سے آئندہ کے فیصلوں کو اہم بنا رہا ہے۔
شائع ہوا: 17 ستمبر، 2026 کو 03:18 AM
آخری تدوین: 17 ستمبر، 2026



