شمسو بی بی عرف عائشہ گلامنہ قتل کیس کا ڈراپ سین، والد اور بھائی سمیت 5 ملزمان گرفتار

ٹک ٹاکر شمسو بی بی عرف عائشہ گلامنہ کے قتل کیس میں راولپنڈی پولیس نے والد اور بھائی سمیت 5 ملزمان گرفتار کرلیے۔ ابتدائی تحقیقات میں غیرت کے نام پر قتل کا انکشاف ہوا ہے۔
راولپنڈی پولیس نے ٹک ٹاکر شمسو بی بی عرف عائشہ گلامنہ کے قتل کیس کا سراغ لگا کر مقتولہ کے والد اور بھائی سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں قتل کی وجہ غیرت کے نام پر قتل سامنے آئی ہے، تاہم مزید تفتیش جاری ہے۔
راولپنڈی پولیس کے ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان میں مقتولہ کے والد فضل، حقیقی بھائی بشیر، چچا زاد بھائی احسان، والد کے چچا روزی خان اور چچا زاد بھائی کا بیٹا یاسین شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ شمسو بی بی عرف عائشہ گلامنہ کو اس کے والد اور بھائی نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر قتل کروایا۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے واردات کے بعد قانون کو گمراہ کرنے کے لیے واقعے کو مختلف انداز میں پیش کرنے کی کوشش بھی کی۔

100 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ کا جائزہ
پولیس ترجمان کے مطابق سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا کی ہدایات پر قتل کیس کی تحقیقات کے لیے متعدد خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ ٹیمیں تفتیش میں ہونے والی پیش رفت سے سی پی او کو مسلسل آگاہ کرتی رہیں۔
قتل کی واردات کا سراغ لگانے کے لیے پولیس نے 100 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ کا جائزہ لیا، جبکہ ہیومن انٹیلیجنس سمیت دیگر دستیاب ذرائع بھی استعمال کیے گئے۔

تفتیش کے دوران پولیس نے حالات و واقعات کا جائزہ لیتے ہوئے مقتولہ کے والد اور بھائی کو بھی شامل تفتیش کیا۔ پولیس کے مطابق تفتیش آگے بڑھنے پر ملزمان نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر عائشہ کو قتل کروانے کا انکشاف کیا۔
والد کی مدعیت میں مقدمہ درج ہوا تھا
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر عائشہ گلامنہ کے نام سے معروف شمسو بی بی کو 14 اگست 2026 کو ٹیکسلا میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق واقعے کے وقت مقتولہ اپنے بہن بھائی کے ہمراہ گھر سے باہر نکلی تھیں، جہاں انہیں فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ فائرنگ کے واقعے میں ان کے بہن بھائی بھی زخمی ہوئے تھے۔
واقعے کے بعد ابتدائی طور پر مقدمہ مقتولہ کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا، تاہم تحقیقات آگے بڑھنے کے بعد پولیس نے والد، بھائی اور دیگر قریبی رشتہ داروں سمیت پانچ افراد کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں قتل کی وجہ غیرت کا معاملہ سامنے آیا ہے، تاہم مزید تفتیش کے دوران مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔
راولپنڈی پولیس کے مطابق گرفتار پانچوں ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور انہیں قانون کے مطابق چالان کیا جائے گا تاکہ مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ ملزمان کتنے ہی شاطر کیوں نہ ہوں، قانون کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا اور شواہد کی بنیاد پر اصل حقائق تک پہنچا جا سکتا ہے۔
شائع ہوا: 23 اگست، 2026 کو 03:18 AM
آخری تدوین: 23 اگست، 2026



