آبنائے ہرمز بحران، قطر انرجی کے ایل این جی منصوبوں میں تاخیر کا خدشہ

قطر انرجی کے سی ای او سعد الکعبی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے باعث ضروری سامان کی ترسیل متاثر ہونے سے کمپنی کے بعض ایل این جی منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر ہوسکتی ہے
نیویارک: آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے باعث قطر انرجی کے بعض بڑے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سعد الکعبی نے کہا ہے کہ منصوبوں کے لیے درکار ضروری سامان قطر نہ پہنچنے کے باعث تعمیراتی اور ترقیاتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
نیویارک میں منعقدہ قطر اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے سعد الکعبی نے بتایا کہ موجودہ صورتحال کے باعث قطر انرجی کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی پیداوار میں بھی کمی کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دیا جاتا ہے تو کمپنی چند ہفتوں کے اندر اپنی معمول کی سرگرمیاں بحال کر سکتی ہے۔
قطر انرجی کے مطابق نارتھ ایسٹ فیلڈ ڈویلپمنٹ منصوبے کے بعض یونٹس سے 2027 میں پیداوار شروع ہونے کی توقع ہے، جبکہ نارتھ ساؤتھ فیلڈ منصوبے سے ایل این جی کی پیداوار 2028 میں شروع ہونے کا منصوبہ ہے۔
سعد الکعبی نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں موجودہ صورتحال کے باعث ان منصوبوں کے مقررہ شیڈول پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ضروری آلات اور دیگر سامان کی بروقت ترسیل نہ ہونے کی صورت میں منصوبوں کی تکمیل اور پیداوار شروع کرنے کی تاریخیں متاثر ہونے کا امکان ہے۔
قطر دنیا کے بڑے ایل این جی برآمد کنندگان میں شامل ہے، اس لیے قطر انرجی کے بڑے منصوبوں میں کسی بھی تاخیر کا اثر عالمی ایل این جی سپلائی کے مستقبل کے تخمینوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
شائع ہوا: 21 ستمبر، 2026 کو 03:40 AM
آخری تدوین: 21 ستمبر، 2026



