پاکستان میں بھی چھوٹے چھوٹے ٹرمپ موجود ہیں، عمران خان کو ہٹانے کا فیصلہ غلط اندازہ تھا، راجا ناصر عباس
زاہد فاروق ملک6 نومبر، 2026
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کا فیصلہ غلط سیاسی اندازہ تھا، پاکستان میں بھی چھوٹے چھوٹے ٹرمپ موجود ہیں، حکومت عوام سے لڑ رہی ہے
اسلام آباد: سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ پاکستان میں بھی چھوٹے چھوٹے ٹرمپ موجود ہیں، جنہوں نے طاقت، خوف، لالچ، تعصب اور تکبر کی بنیاد پر غلط سیاسی فیصلے کیے۔ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کا فیصلہ بھی ایک غلط اندازے کا نتیجہ تھا، تاہم آج عمران خان ان کے گلے کی ہڈی بن چکے ہیں۔
پارلیمنٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے ہر طرح کے اقدامات کیے گئے، لوگوں کو اٹھایا گیا اور خواتین کو قید کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کی خدمت کرنے کے بجائے عوام سے لڑ رہی ہے اور ملک میں سیاسی، معاشی اور سماجی سطح پر طاقت کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو خوف کی وجہ سے ختم کیا گیا، جبکہ عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کرکے سیاسی فیصلے کیے گئے۔ ان کے مطابق لالچ، خوف، تعصب اور تکبر نے ملک میں غلط سیاسی فیصلوں کو جنم دیا۔
طاقت اور تکبر غلط فیصلوں کا سبب بنتے ہیں
راجا ناصر عباس نے امریکا کی افغانستان اور عراق میں مداخلت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے افغانستان میں 2.2 ٹریلین ڈالر سے زائد رقم خرچ کی، لیکن اتنے بڑے اخراجات کے باوجود اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے عراق میں بھی جھوٹ کی بنیاد پر طاقت استعمال کی۔ غرور، تکبر، تعصب اور لالچ قوموں کو غلط اندازے لگانے پر مجبور کرتے ہیں اور یہی رویے تباہی کا سبب بنتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی حکمران طبقے نے خود کو اشرافیہ سمجھتے ہوئے عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کیا۔ عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کا فیصلہ بھی اسی طرز کی سیاسی غلطی تھی۔
خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر سوالات
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ 25 برس سے امن قائم نہیں ہوسکا اور اب خیبرپختونخوا میں بھی بدامنی بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا کو دوبارہ آزمائے ہوئے سیاسی لوگوں کے حوالے کردیا گیا ہے، جنہوں نے پہلے نظام کو کمزور کیا، کیا وہ اب صوبے میں امن قائم کرسکیں گے؟ کیا یہ لوگ دہشت گردی اور جرائم کا خاتمہ کر پائیں گے؟
راجا ناصر عباس نے مزید کہا کہ عوام کا مینڈیٹ چھین کر ان کے فیصلے کو مسترد کیا گیا، جبکہ سیاسی نظام میں عوامی رائے کو اہمیت نہیں دی جارہی۔
حکومت عوام کی خدمت کے بجائے عوام سے لڑ رہی ہے
علامہ راجا ناصر عباس کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام کی سیاسی لڑائی بھی عوام کے ساتھ ہے۔ حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے ان سے محاذ آرائی کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں سطحوں پر بحرانوں کا شکار ہے۔ سیاسی، معاشی اور طاقت کے استعمال کی لڑائی عوام کے خلاف لڑی جا رہی ہے، جبکہ موجودہ نظام میں سیاسی، معاشی اور سماجی طاقت کا غلط استعمال جاری ہے۔
اپوزیشن لیڈر کے مطابق ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے عوامی مینڈیٹ کا احترام، سیاسی انصاف اور عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دینا ضروری ہے۔

زاہد فاروق ملک پاکستان کے ممتاز سینئر صحافی، کالم نگار اور میڈیا ایگزیکٹو ہیں۔ وہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مقیم ہیں اور اس وقت وائسز آف امریکا کے بیورو چیف کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
شائع ہوا: 6 نومبر، 2026 کو 05:57 AM
آخری تدوین: 6 نومبر، 2026



