ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملے کی پاکستان کی شدید مذمت، علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار

پاکستان نے ریاض ایئرپورٹ پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی شہری آبادی پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دیا
اسلام آباد: پاکستان نے ریاض ایئرپورٹ پر حوثی ملیشیا کے تازہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب کی قیادت اور عوام کے ساتھ غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاض ایئرپورٹ پر حوثی ملیشیا کا حملہ ایک گھناؤنا دہشت گردانہ فعل اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ترجمان کے مطابق شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے والے ایسے حملے علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
حملے میں جانی نقصان پر پاکستان کو تشویش
دفتر خارجہ کے ترجمان نے حملے میں جانی نقصان اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ بیان میں متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ عالمی برادری کو ایسے حملوں کی بلاامتیاز مذمت کرنی چاہیے، کیونکہ کسی بھی صورت میں جارحیت کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
حوثی ملیشیا سے حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ
پاکستان نے حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گرد حملے فوری طور پر بند کرے۔ دفتر خارجہ کے مطابق ایسے اقدامات نہ صرف بے گناہ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ خطے کے امن اور استحکام کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
بیان میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے خلاف واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرے۔
سعودی عرب کی خودمختاری اور دفاع کی حمایت
دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستان نے سعودی عرب کے دفاع، عوام کے تحفظ اور اہم تنصیبات کی حفاظت کے حق کی حمایت بھی کی۔
ترجمان کے مطابق پاکستان سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور یکجہتی کے عزم کو دہراتا ہے۔ بیان میں مکہ معاہدے اور اسٹریٹجک، سیاسی و دفاعی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں کا بھی حوالہ دیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی بھی شدید مذمت
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کی اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے کو ناقابل قبول قرار دیا۔
پاکستانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ شہریوں اور اہم تنصیبات پر حملے خطے میں کشیدگی بڑھانے اور امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔
ریاض ایئرپورٹ پر حملے سے جانی و مالی نقصان کی اطلاعات
فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق ریاض ایئرپورٹ پر حوثی ملیشیا کے تازہ حملوں میں غیرملکیوں سمیت 12 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ حملے کے نتیجے میں ایئرپورٹ کے انفرااسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچنے اور پروازوں کا آپریشن متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور دفاع کے معاملے پر اس کے ساتھ کھڑا رہے گا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔
شائع ہوا: 11 اکتوبر، 2026 کو 06:45 AM
آخری تدوین: 11 اکتوبر، 2026



