ٹرمپ نے نضال حسن کی پھانسی براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا

امریکی صدر کے مطابق نضال حسن کو 3 دسمبر 2026 کو شیڈول کے مطابق فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی، جبکہ مقتولین کے اہلِ خانہ ذاتی طور پر کارروائی دیکھ سکیں گے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی فوجی ماہرِ نفسیات نضال حسن کی فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے پھانسی براہِ راست نشر کرنے کا منصوبہ منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ہے، تاہم ان کے مطابق سزائے موت مقررہ شیڈول کے مطابق 3 دسمبر 2026 کو دی جائے گی۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ بہت سے اچھے اور نیک نیت لوگ نضال حسن کو مرتے ہوئے دیکھنا پسند نہیں کریں گے، اس لیے پھانسی کی براہِ راست نشریات نہیں کی جائیں گی۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ مقتولین کے اہلِ خانہ اگر چاہیں تو پھانسی کے موقع پر ذاتی طور پر موجود رہ کر کارروائی دیکھ سکتے ہیں۔
نضال حسن پر کیا الزام تھا؟
نضال حسن امریکی فوج کا سابق ماہرِ نفسیات ہے، جس نے 5 نومبر 2009 کو ریاست ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کی تھی۔ اس واقعے میں 13 غیر مسلح فوجی اہلکار ہلاک اور 32 افراد زخمی ہوئے تھے۔
امریکی محکمہ دفاع نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ نضال حسن کو 3 دسمبر 2026 کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی اور اس کارروائی کو براہِ راست نشر کیا جائے گا۔
براہِ راست نشریات کے منصوبے پر شدید تنقید
پھانسی کو براہِ راست نشر کرنے کے اعلان کے بعد امریکا سمیت دنیا بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ اقوام متحدہ نے اس منصوبے کو ’قابلِ نفرت‘ قرار دیا تھا، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس پر اعتراضات اٹھائے تھے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ابتدا میں اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ ایسے اقدامات کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔
ٹرمپ نے جمعے کو بھی براہِ راست نشریات کے منصوبے کی حمایت کی تھی، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ محکمہ دفاع اس معاملے پر حتمی فیصلہ کر رہا ہے۔ بعد ازاں امریکی صدر نے منصوبہ منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔
نضال حسن کے وکیل کا ردعمل
نضال حسن کے وکیل جان گیلیگن نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پھانسی کی براہِ راست نشریات منسوخ کرنے کا فیصلہ ان کے لیے حیران کن نہیں ہے۔
وکیل کے مطابق کسی بھی پھانسی کو براہِ راست نشر کرنے کا ابتدائی فیصلہ غلط تھا اور اس سے فوج کے اپنے ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ نقصان پہلے ہی ہوچکا ہے اور فوج اب اس معاملے کو درست کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے بقول یہ معاملہ امریکی فوجی نظامِ انصاف پر ایک مستقل دھبے کے طور پر باقی رہے گا۔
جان گیلیگن نے مزید کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ نضال حسن کو براہِ راست نشریات منسوخ کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا ہے یا نہیں۔
60 سال سے زائد عرصے بعد امریکی فوج میں پہلی پھانسی
رپورٹ کے مطابق نضال حسن کی پھانسی 60 سال سے زائد عرصے بعد امریکی فوج میں پہلی فوجی پھانسی ہوگی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال 17 ممالک میں 2 ہزار 700 سے زیادہ پھانسیوں کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم صرف دو ممالک میں عوامی سطح پر پھانسیوں کی اطلاعات تھیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 2025 میں ایران میں 11 اور افغانستان میں 6 عوامی پھانسیوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
شائع ہوا: 16 اکتوبر، 2026 کو 09:12 AM
آخری تدوین: 16 اکتوبر، 2026



