امریکی عدالت کا ٹرمپ انتظامیہ کے سیاسی اشتہارات پر پابندی کا حکم
محمد نعیم اختر12 اکتوبر، 2026
امریکی وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے متنازع سرکاری اشتہارات تیار اور نشر کرنے سے دو ہفتوں کے لیے روک دیا۔ مقدمے کا حتمی فیصلہ تاحال نہیں آیا
واشنگٹن: امریکہ میں وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تشہیر کرنے والے سرکاری اشتہارات کے خلاف عارضی حکم جاری کرتے ہوئے انتظامیہ کو دو ہفتوں کے لیے ایسے اشتہارات تیار کرنے اور نشر کرنے سے روک دیا ہے جن کے اخراجات ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے برداشت کیے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نیویارک کی وفاقی جج جینیفر روشون نے یہ حکم متنازع اشتہاری مہم کے حوالے سے جاری کیا، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی پالیسیوں کو نمایاں کیا گیا تھا۔
اشتہارات پر سیاسی فائدہ پہنچانے کا الزام
یہ اشتہارات ستمبر کے اواخر میں نشر ہونا شروع ہوئے تھے۔ تنظیم کامن کاز سمیت دیگر مدعیان نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری وسائل سے چلائی جانے والی اس مہم کا مقصد عوامی خدمت کے بجائے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن امیدواروں کو سیاسی فائدہ پہنچانا تھا۔
مدعیان کے مطابق سرکاری فنڈز کے استعمال سے متعلق اس اشتہاری مہم پر قانونی اعتراضات موجود ہیں، جن کا جائزہ عدالت میں لیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کا اشتہارات کے اخراجات سے متعلق اعلان
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں ان اشتہارات کا دفاع کیا تھا، تاہم بعد ازاں اعلان کیا کہ مستقبل میں ان کے اخراجات سیاسی تنظیم میگا انکارپوریٹڈ (MAGA Inc.) برداشت کرے گی۔
اس اعلان کے باوجود عدالت کی جانب سے جاری کردہ عارضی حکم مقدمے کی قانونی کارروائی کے دوران نافذ رہے گا، جب تک عدالت اس میں تبدیلی نہیں کرتی یا مزید فیصلہ جاری نہیں کرتی۔
مقدمے کا حتمی فیصلہ تاحال باقی
عدالت کا موجودہ حکم عارضی نوعیت کا ہے اور اس سے مقدمے کے حتمی نتیجے کا تعین نہیں ہوتا۔ کیس میں فریقین کے مؤقف اور قانونی نکات کا جائزہ لیا جانا ابھی باقی ہے۔

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 12 اکتوبر، 2026 کو 05:22 AM
آخری تدوین: 12 اکتوبر، 2026



