امریکی فوج کے کیتھولک اہلکاروں کو نڈال حسن کی سزائے موت کے عمل میں حصہ نہ لینے کی ہدایت

آرچ بشپ ٹموتھی بروگلیو نے امریکی فوج کے کیتھولک اہلکاروں کو نڈال حسن کی سزائے موت کے عمل میں حصہ نہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے سزائے موت کی براہ راست نشریات کے مجوزہ منصوبے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا
واشنگٹن: امریکی فوج کے کیتھولک اہلکاروں کو فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر 2009 میں فائرنگ کرنے والے حملہ آور نڈال حسن کی سزائے موت کے عمل میں حصہ نہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ امریکی مسلح افواج کے کیتھولک اہلکاروں کے روحانی پیشوا آرچ بشپ ٹموتھی بروگلیو نے کہا ہے کہ کیتھولک فوجیوں کو ایسے اقدامات سے معذرت کرنی چاہیے جو کلیسا کی تعلیمات کے منافی ہوں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، آرچ بشپ بروگلیو نے نڈال حسن کی سزائے موت کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیتھولک اہلکاروں کو اپنے مذہبی اصولوں اور کلیسا کی تعلیمات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
فورٹ ہڈ حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے
نڈال حسن نے 2009 میں امریکی ریاست ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوگئے تھے۔ اس واقعے کو امریکی فوجی اڈے پر پیش آنے والے سنگین فائرنگ کے واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔
حملے کے بعد نڈال حسن کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی اور انہیں سزائے موت سنائی گئی۔ اب ان کی سزائے موت کے عمل میں فوجی اہلکاروں کی ممکنہ شرکت اور اس کی براہ راست نشریات کے منصوبے پر بحث جاری ہے۔
سزائے موت کی براہ راست نشریات کا منصوبہ زیر غور
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ نڈال حسن کی سزائے موت کی کارروائی براہ راست نشر کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ تاہم، فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال اس منصوبے کی حتمی منظوری نہیں دی۔
آرچ بشپ بروگلیو نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا امریکا اپنے مخالفین کو سرعام قتل کرکے دہشت گردوں جیسا طرز عمل اختیار کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ سزائے موت کی براہ راست نشریات نوجوان ناظرین پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔ ان کے مطابق، اس نوعیت کے اقدام کے اخلاقی اور معاشرتی اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
مذہبی تعلیمات اور فوجی ذمہ داریوں پر بحث
اس معاملے نے مذہبی عقائد، فوجی فرائض اور سزائے موت کے اخلاقی پہلوؤں سے متعلق بحث کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔ آرچ بشپ بروگلیو کے مؤقف کے مطابق، کیتھولک فوجیوں کو ایسے اقدامات میں شرکت سے گریز کرنا چاہیے جو ان کے مذہبی عقائد سے متصادم ہوں۔
دوسری جانب، سزائے موت کی کارروائی کو براہ راست نشر کرنے کی تجویز پر حتمی فیصلہ سامنے آنا باقی ہے۔ اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے کسی حتمی منظوری یا مزید تفصیلات کا اعلان اہم ہوگا۔
شائع ہوا: 13 اکتوبر، 2026 کو 08:03 AM
آخری تدوین: 13 اکتوبر، 2026



