امریکی اپیلز کورٹ کا ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا دھچکا، 20 ہزار ووٹرز کے بیلٹس روکنے کی درخواست مسترد
محمد نعیم اختر31 اکتوبر، 2026
امریکی وفاقی اپیلز کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی کیلیفورنیا میں 20 ہزار سے زائد ووٹرز کے میل اِن بیلٹس روکنے کی درخواست مسترد کر دی۔ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل اہم عدالتی فیصلہ سامنے آگیا
واشنگٹن: امریکی وفاقی اپیلز کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا عدالتی دھچکا دیتے ہوئے کیلیفورنیا میں 20 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز کے ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی روکنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
امریکی خبررساں ادارے کے مطابق محکمہ انصاف نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں مذکورہ ووٹرز کے میل اِن بیلٹس کو عارضی طور پر شمار کرنے سے روکا جائے، کیونکہ حکام کو شبہ تھا کہ ان میں بعض غیر امریکی شہری بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
سان فرانسسکو میں قائم نائنتھ سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے دو کے مقابلے میں ایک جج کی اکثریت سے حکومتی درخواست مسترد کر دی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ ووٹرز کی فہرست کی درستگی پر سوالات موجود ہیں، جبکہ ووٹوں کی گنتی روکنے سے ایسے افراد بھی اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں جو قانونی طور پر ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔
یہ رواں ہفتے دوسری مرتبہ ہے کہ وفاقی اپیلز کورٹ نے محکمہ انصاف کی ہنگامی درخواست مسترد کی ہے۔ اس سے قبل وفاقی ضلعی عدالت بھی ٹرمپ انتظامیہ کا یہی مطالبہ رد کر چکی ہے۔
امریکی قانون کے تحت غیر امریکی شہری وفاقی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے اہل نہیں ہیں، تاہم اس مقدمے میں بنیادی تنازع ووٹرز کی شہریت کی تصدیق اور ان کے ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کو شمار ہونے سے روکنے کے حکومتی مطالبے پر ہے۔
عدالتی فیصلہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے چند روز قبل سامنے آیا ہے، جسے انتخابی عمل اور ووٹرز کے حقِ رائے دہی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 31 اکتوبر، 2026 کو 07:31 AM
آخری تدوین: 1 نومبر، 2026



