ایران کی ایک یا دو جوہری تنصیبات پر کارروائی باقی ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی ایک یا دو جوہری تنصیبات پر کارروائی باقی ہے، ضرورت پڑنے پر 10 منٹ میں حملہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خط موصول ہونے کی تصدیق کر دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی ایک یا دو مزید جوہری تنصیبات پر ممکنہ فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ان تنصیبات کو صرف 10 منٹ میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کسی جلدی میں نہیں اور دیکھنا ہوگا کہ تہران معاہدے پر قائم رہتا ہے یا نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران معاہدہ کرنے کے بعد اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ جاتا ہے، اس لیے اسے زیادہ قابلِ اعتماد نہیں سمجھا جا سکتا۔ تاہم ان کے مطابق ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت اچھی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
ایران پر دوبارہ فوجی حملے سے متعلق سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ کیسا احمقانہ سوال ہے؟ فرض کریں کہ میں ایسا کرنے کا فیصلہ کرلوں تو کیا آپ کو پہلے سے بتاؤں گا؟ میں اس بارے میں کچھ نہیں بتا سکتا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج ایران کی بحریہ، فضائیہ، فضائی دفاعی نظام اور متعدد جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا چکی ہے، تاہم ایک یا دو جوہری تنصیبات پر کارروائی ابھی باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر ان تنصیبات کو 10 منٹ میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ مذاکرات کے لیے جلدی میں نہیں ہے اور معاہدے کے معاملے پر ایران کے عملی اقدامات کا انتظار کرے گا۔
امریکا کی ایران پر دوبارہ بمباری کی تیاری کا دعویٰ
دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران پر فضائی حملے دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اخبار کے مطابق ممکنہ فوجی کارروائی امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد شروع ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو سے بھی گفتگو کی ہے، تاہم ممکنہ حملوں کے حوالے سے حتمی فیصلے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ایران کو جے ڈی وینس کا خط موصول ہونے کا انکشاف
ادھر ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے لب و لہجے میں نمایاں تبدیلی دکھائی دے رہی ہے، جو ایک مثبت اشارہ ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق محسن رضائی نے ایک خصوصی انٹرویو میں انکشاف کیا کہ انہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خط موصول ہوا ہے، جس کا انہوں نے بغور جائزہ بھی لیا ہے، تاہم ابھی تک اس خط کا باضابطہ جواب نہیں دیا گیا۔
محسن رضائی کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں، جبکہ ایک طرف مذاکرات کی امیدیں برقرار ہیں تو دوسری جانب ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات بھی موجود ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ صورتحال میں سفارتی پیش رفت اور فوجی دباؤ دونوں اہم عوامل بن چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ دونوں ممالک کسی معاہدے تک پہنچتے ہیں یا خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی ہے۔
شائع ہوا: 1 نومبر، 2026 کو 03:58 AM
آخری تدوین: 1 نومبر، 2026



