امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹنگ کا نیا ریکارڈ قائم

امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل 5 کروڑ 27 لاکھ 96 ہزار سے زائد شہری ووٹ ڈال چکے ہیں، جس کے بعد 2022 کے قبل از وقت ووٹنگ کا ریکارڈ ٹوٹ گیا
فلوریڈا: امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل قبل از وقت ووٹنگ کا نیا ریکارڈ قائم ہوگیا، جہاں اب تک 5 کروڑ 27 لاکھ 96 ہزار سے زائد امریکی شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کرچکے ہیں۔
یونیورسٹی آف فلوریڈا کی الیکشن لیب کے مطابق قبل از وقت ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد نے 2022 کے وسط مدتی انتخابات کا سابقہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ گزشتہ وسط مدتی انتخابات میں تقریباً 4 کروڑ 59 لاکھ امریکیوں نے مقررہ انتخابی دن سے پہلے ووٹ ڈالے تھے۔

ڈاک کے ذریعے بھی لاکھوں ووٹ موصول
رپورٹ کے مطابق اب تک 2 کروڑ 38 لاکھ سے زائد بیلٹ پیپرز ڈاک کے ذریعے انتخابی حکام کو موصول ہوچکے ہیں، جو قبل از وقت ووٹنگ میں ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔

ایوان نمائندگان اور سینیٹ کی نشستوں پر مقابلہ
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوگی۔
اس کے علاوہ مختلف ریاستوں میں اہم ریاستی عہدوں کے انتخاب کے لیے بھی شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

وسط مدتی انتخابات کے نتائج امریکی کانگریس میں سیاسی نمائندگی اور قانون سازی کے عمل پر اثر انداز ہوں گے، جبکہ قبل از وقت ووٹنگ کے نئے اعداد و شمار انتخابی عمل میں شہریوں کی شرکت کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیے جارہے ہیں۔
شائع ہوا: 1 نومبر، 2026 کو 06:04 AM
آخری تدوین: 1 نومبر، 2026



