خلا میں بڑھتے کچرے سے نمٹنے کے لیے برطانیہ کا اہم منصوبہ، روبوٹک خلائی جہاز تیار کرنے پر کام شروع

برطانیہ نے خلا میں بڑھتے کچرے کو ختم کرنے کے لیے 8 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے منصوبے پر کام شروع کر دیا۔ روبوٹک خلائی جہاز ناکارہ سیٹلائٹس کو پکڑ کر زمین کی فضا میں منتقل کرے گا
لندن: زمین کے مدار میں بڑھتے ہوئے خلائی کچرے سے نمٹنے کے لیے برطانیہ نے ایک منفرد منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے، جس کے تحت بڑے پنجوں سے لیس ایک روبوٹک خلائی جہاز تیار کیا جائے گا۔ یہ خلائی جہاز ناکارہ سیٹلائٹس کو پکڑ کر زمین کی فضا میں داخل کرے گا، جہاں شدید حرارت کے باعث وہ جل کر تباہ ہو جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق زمین کے گرد گردش کرنے والے ناکارہ سیٹلائٹس اور خلائی کچرے کے ٹکڑے فعال سیٹلائٹس اور دیگر خلائی جہازوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان ٹکڑوں میں سے کسی ایک کا تصادم بھی اہم خلائی آلات کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مواصلاتی نظام اور دیگر خلائی خدمات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
منصوبے کے تحت تیار کیے جانے والے روبوٹک خلائی جہاز میں خصوصی بڑے پنجے نصب ہوں گے، جن کی مدد سے ناکارہ سیٹلائٹس کو مضبوطی سے پکڑا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں زمین کی فضا کی جانب منتقل کیا جائے گا، جہاں فضا میں داخلے کے دوران پیدا ہونے والی شدید حرارت انہیں جلانے میں مدد دے گی۔
برطانیہ اس منصوبے پر تقریباً 8 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد زمین کے مدار میں موجود خلائی کچرے کی مقدار کم کرنا اور فعال سیٹلائٹس سمیت دیگر خلائی مشنز کو ممکنہ تصادم سے محفوظ رکھنے میں مدد دینا ہے۔
خلائی کچرے میں اضافے کے باعث زمین کے مدار میں سرگرم سیٹلائٹس کے تحفظ کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ ایسے میں ناکارہ سیٹلائٹس کو مدار سے ہٹانے کی ٹیکنالوجی مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
اگر یہ مشن کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو خلائی کچرے کو ٹھکانے لگانے اور زمین کے مدار کو مزید محفوظ بنانے کے لیے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔
شائع ہوا: 27 اکتوبر، 2026 کو 06:38 AM
آخری تدوین: 27 اکتوبر، 2026



