ایران کے خلاف امریکی جنگ پر کتنے اخراجات؟
محمد نعیم اختر31 اکتوبر، 2026
ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں پر بھاری اخراجات کی بحث دوبارہ شروع۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ کا مالی بوجھ امریکی ٹیکس دہندگان پر زیادہ نہیں پڑ رہا
اسلام آباد: ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں پر ہونے والے اخراجات ایک بار پھر زیرِ بحث آ گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری خطرے کو کم کرنے کے لیے امریکا نے بھاری رقم خرچ کی، تاہم ان کے بقول جنگ کے مالی اخراجات امریکی ٹیکس دہندگان پر غیر معمولی بوجھ نہیں ڈال رہے۔
ٹرمپ انتظامیہ ایران کے جوہری پروگرام کو امریکی قومی سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتی رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کے تازہ بیان کے بعد امریکی فوجی کارروائیوں پر اٹھنے والے مجموعی اخراجات اور ان کے مالی اثرات پر بحث دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق جنگی اخراجات کا درست اندازہ لگانے کے لیے فوجی آپریشنز، اسلحے کے استعمال، فوجی تعیناتیوں اور جنگ کے بعد بحالی سمیت تمام اخراجات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے مستقبل کا انحصار عسکری صورتحال کے ساتھ ساتھ سفارتی مذاکرات اور جوہری معاہدے سے متعلق پیش رفت پر بھی ہوگا۔

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 31 اکتوبر، 2026 کو 07:41 AM
آخری تدوین: 31 اکتوبر، 2026



