امریکا نے ایران کی کچھ شرائط مان لی ہیں: محسن رضائی کا دعویٰ

ایرانی رہنما محسن رضائی کا دعویٰ ہے کہ امریکا نے ایران کی سات شرائط میں سے بعض تسلیم کرلی ہیں، تاہم اہم مطالبات پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ آبنائے ہرمز کھولنے اور تیل کی ترسیل سے متعلق مذاکرات جاری ہیں
ویب ڈیسک: ایران کے رہنما محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی پیش کردہ سات شرائط میں سے بعض تسلیم کرلی ہیں، تاہم اہم مطالبات پر اتفاق نہ ہونے کے باعث تہران نے امریکی جواب کو ناکافی قرار دے دیا ہے۔
محسن رضائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا نے قطر کے ذریعے ایران کی تجاویز کا جواب دیا، جس میں چند شرائط قبول کی گئیں، تاہم اہم معاملات پر پیش رفت نہیں ہوسکی۔
ایرانی حکام کے مطابق تہران نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سات نکاتی تجاویز پیش کی تھیں۔ ایران کا مؤقف تھا کہ اگر امریکا ان شرائط کو تسلیم کرلیتا تو تہران سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے اور جہازرانی معمول پر لانے کے لیے تیار تھا۔
آبنائے ہرمز پر کشیدگی برقرار
محسن رضائی نے امریکی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی بحری بیڑا آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ واشنگٹن اب اس اہم بحری راستے سے تیل کی ترسیل کے لیے اسمگلنگ کا سہارا لے رہا ہے۔
ایرانی رہنما نے امریکی فوج کی کارروائیوں پر بھی تنقید کی، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ یہاں کشیدگی یا جہازرانی میں رکاوٹ سے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی، قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
قطر کے ذریعے سفارتی رابطے
ایرانی مؤقف کے مطابق، قطر کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ اس پیش رفت سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کا عندیہ ملتا ہے، تاہم ایران کی شرائط اور امریکی ردعمل کی مکمل تفصیلات عوامی سطح پر واضح نہیں ہیں۔
تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو اپنے مطالبات کی منظوری سے مشروط قرار دے رہا ہے، جبکہ اہم نکات پر اختلافات برقرار ہیں۔
فی الحال محسن رضائی کے بیان میں امریکی جانب سے بعض شرائط تسلیم کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، لیکن اس کی امریکی حکام کی جانب سے آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ مذاکرات کی آئندہ پیش رفت اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر آسکے گی یا خطے میں کشیدگی برقرار رہے گی۔
شائع ہوا: 12 اکتوبر، 2026 کو 08:37 AM
آخری تدوین: 12 اکتوبر، 2026



