وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکی وسط مدتی انتخابات

امریکی انتخابات پر کروڑوں ڈالر کا سٹہ، سیاست بھی جوئے کی بڑی منڈی بن گئی

W
Web Desk
3 نومبر، 2026
امریکی انتخابات پر کروڑوں ڈالر کا سٹہ، سیاست بھی جوئے کی بڑی منڈی بن گئی

امریکا کے 3 نومبر 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے قبل کیلشی پر کانگریس، سینیٹ اور گورنر کے انتخابی نتائج پر کروڑوں ڈالر کا سٹہ لگ گیا۔ ٹیکساس سینیٹ سمیت اہم ریاستوں میں سیاسی سٹے بازی عروج پر، ڈیموکریٹس کی کامیابی کے امکانات اور انتخابی منڈیوں

امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل سیاسی سٹے بازی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ کانگریس، سینیٹ اور ریاستی گورنروں کے انتخابی نتائج پر پیش گوئی کی منڈیوں میں کروڑوں ڈالر داؤ پر لگائے جا رہے ہیں، جہاں امیدواروں کی کامیابی اور سیاسی جماعتوں کی اکثریت جواریوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

امریکی سیاسی سٹے بازی کے نمایاں پلیٹ فارم کیلشی (Kalshi) پر انتخابی منڈیوں میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ کمپنی امریکی کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن (CFTC) کی نگرانی میں کام کرتی ہے اور ان سرگرمیوں کو روایتی جوئے کے بجائے ایونٹ کنٹریکٹس کی خرید و فروخت قرار دیتی ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق کیلشی کی وسیع تر انتخابی منڈیوں میں گزشتہ 30 روز کے دوران تقریباً 45 کروڑ 42 لاکھ ڈالر کا لین دین ہوا، جبکہ صرف 31 اکتوبر کو تقریباً 3 کروڑ 83 لاکھ ڈالر داؤ پر لگائے گئے۔ تاہم ان اعداد میں دیگر انتخابی منڈیاں بھی شامل ہیں، اس لیے انہیں صرف 3 نومبر کے انتخابات پر لگائے گئے سٹے کی مجموعی رقم نہیں کہا جا سکتا۔

کانگریس اور سینیٹ پر ڈیموکریٹس کی برتری

3 نومبر کے انتخابات میں امریکی ایوانِ نمائندگان کی 435، سینیٹ کی 35 اور 36 ریاستوں میں گورنر کی نشستوں پر مقابلہ ہوگا۔

کیلشی کی ایک نمایاں منڈی میں ایوانِ نمائندگان کے کنٹرول سے متعلق تقریباً 17 کروڑ 76 لاکھ ڈالر کا سٹہ ریکارڈ کیا گیا۔ سٹے بازوں کے اندازوں کے مطابق ڈیموکریٹس کے ایوان پر کنٹرول حاصل کرنے کا امکان تقریباً 93 فیصد جبکہ ری پبلکنز کا 7 فیصد تھا۔

سینیٹ کے مجموعی کنٹرول سے متعلق منڈی میں تقریباً 13 کروڑ 39 لاکھ ڈالر داؤ پر لگائے گئے، جہاں ڈیموکریٹس کی کامیابی کا امکان 72 فیصد اور ری پبلکنز کا 28 فیصد ظاہر کیا گیا۔

سینیٹ سے متعلق ایک دوسری منڈی میں بھی تقریباً 2 کروڑ 55 لاکھ ڈالر کا سٹہ سامنے آیا۔ یہ الگ الگ منڈیاں ہیں، اس لیے ان کی رقوم کو ایک ہی انتخابی داؤ کا حصہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

ٹیکساس سینیٹ کی نشست پر 6 کروڑ 85 لاکھ ڈالر کا سٹہ

امریکی انتخابی سٹے بازی میں سب سے زیادہ توجہ ٹیکساس کی سینیٹ نشست پر مرکوز ہے، جہاں ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹیلاریکو اور ری پبلکن امیدوار کین پیکسٹن کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔

اس نشست پر تقریباً 6 کروڑ 85 لاکھ ڈالر کا سٹہ لگایا جا چکا ہے۔ کیلشی کے ایک حالیہ جائزے میں ٹیلاریکو کی کامیابی کا امکان 69 فیصد جبکہ پیکسٹن کا 31 فیصد ظاہر کیا گیا۔

روایتی طور پر ری پبلکن رجحان رکھنے والی ریاست ٹیکساس میں سینیٹ کا یہ مقابلہ قومی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ سٹے کی منڈیوں کے اندازوں اور روایتی عوامی سرویز میں فرق بھی سیاسی مبصرین کے لیے اہم موضوع بن گیا ہے۔

ٹیکساس کے گورنر کے انتخاب میں ری پبلکن گریگ ایبٹ اور ڈیموکریٹک امیدوار جینا ہینوہوزا کے درمیان مقابلہ ہے۔ کیلشی پر ایبٹ کی کامیابی کا امکان 66 فیصد جبکہ ہینوہوزا کا 34 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔

دیگر ریاستوں میں بھی انتخابی سٹے بازی عروج پر

ٹیکساس کے علاوہ مین، اوہائیو، مشی گن، آئیووا اور کنساس کی سینیٹ نشستوں پر بھی سٹے بازوں کی خاصی دلچسپی دیکھی جا رہی ہے۔

ریاست مین میں ڈیموکریٹک امیدوار ٹرائے جیکسن اور ری پبلکن سینیٹر سوزن کولنز کے مقابلے پر تقریباً ایک کروڑ 65 لاکھ ڈالر کا سٹہ لگایا گیا۔ ایک جائزے میں جیکسن کی کامیابی کا امکان 69 فیصد جبکہ کولنز کا 31 فیصد ظاہر کیا گیا۔

مشی گن میں عبدالسید اور مائیک راجرز، اوہائیو میں شیروڈ براؤن اور جان ہسٹڈ، آئیووا میں جوش ٹیورک اور ایشلے ہنسن جبکہ کنساس میں ایڈم ہیملٹن اور راجر مارشل کے انتخابی مقابلوں پر بھی سٹے بازی جاری ہے۔

گورنر کے انتخابات بھی اس رجحان سے متاثر ہیں۔ اوہائیو میں ڈیموکریٹک امیدوار ایمی ایکٹن اور ری پبلکن امیدوار وویک راماسوامی کے مقابلے پر تقریباً 76 لاکھ ڈالر کا سٹہ لگایا گیا، جہاں ایکٹن کی کامیابی کا امکان 79 فیصد اور راماسوامی کا 21 فیصد ظاہر کیا گیا۔

فلوریڈا، جارجیا، نیواڈا، کنساس سمیت دیگر ریاستوں میں بھی گورنر کے انتخابی نتائج پر سٹے بازوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

کیلشی پر سیاسی سٹہ کیسے لگایا جاتا ہے؟

کیلشی پر سٹے باز کسی انتخابی نتیجے سے متعلق ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ کے کنٹریکٹس خریدتے ہیں۔

مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی امیدوار کی کامیابی کا کنٹریکٹ 70 سینٹ میں خریدتا ہے اور امیدوار جیت جاتا ہے تو کنٹریکٹ کی مالیت ایک ڈالر ہو جاتی ہے۔ اس صورت میں خریدار کو قیمت اور فیس نکال کر منافع ملتا ہے، تاہم امیدوار ہار جائے تو کنٹریکٹ کی مالیت صفر ہو جاتی ہے اور سٹے باز اپنی لگائی گئی رقم سے محروم ہو جاتا ہے۔

انتخابی مہم، نئے سرویز، امیدواروں کے بیانات اور سیاسی پیش رفت کے ساتھ ان کنٹریکٹس کی قیمتیں مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق کسی امیدوار کی کامیابی کا 70 فیصد امکان ظاہر کرنے والا کنٹریکٹ اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ امیدوار 70 فیصد ووٹ حاصل کرے گا۔ یہ محض ایک مخصوص وقت میں منڈی کے لین دین سے سامنے آنے والا اندازہ ہوتا ہے، جو انتخابی نتائج سے قبل تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔

اسی طرح کسی منڈی میں کروڑوں ڈالر کا سٹہ لگنے کا مطلب یہ نہیں کہ پوری رقم ایک ہی امیدوار کی کامیابی پر داؤ پر لگی ہے۔ اس میں مختلف امیدواروں کے حق اور مخالفت میں لگائے گئے داؤ اور کنٹریکٹس کی بار بار خرید و فروخت بھی شامل ہو سکتی ہے۔

امریکی سیاست میں جوئے پر نئی بحث

امریکی سیاست میں پیش گوئی کی منڈیوں کی بڑھتی مقبولیت نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ منڈیاں مختلف معلومات، عوامی توقعات اور سیاسی رجحانات کو یکجا کرکے انتخابی صورتحال کا ایک اضافی اندازہ فراہم کرتی ہیں۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاسی سٹے بازی سے بڑے سرمایہ کاروں کا اثر بڑھ سکتا ہے اور جمہوری عمل کو مالی نفع و نقصان کے کھیل میں تبدیل کرنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

3 نومبر کو امریکی ووٹرز اپنے نمائندوں اور ریاستی گورنروں کا انتخاب کریں گے، تاہم اسی روز سیاسی نتائج پر رقم داؤ پر لگانے والے سٹے بازوں کے لیے بھی فیصلہ کن گھڑی ہوگی۔ درست اندازے لگانے والے منافع حاصل کریں گے، جبکہ غلط پیش گوئی کرنے والوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

یوں امریکی سیاست میں انتخابی نتائج اب صرف امیدواروں، سیاسی جماعتوں اور ووٹرز کے لیے ہی نہیں بلکہ کروڑوں ڈالر داؤ پر لگانے والے سٹے بازوں کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 3 نومبر، 2026 کو 12:30 PM

آخری تدوین: 3 نومبر، 2026

متعلقہ مضامین

امریکی مڈٹرم انتخابات 2026: پولنگ شروع، کانگریس کا کنٹرول اور ٹرمپ کی مقبولیت داؤ پر
امریکی وسط مدتی انتخابات

امریکی مڈٹرم انتخابات 2026: پولنگ شروع، کانگریس کا کنٹرول اور ٹرمپ کی مقبولیت داؤ پر

امریکا میں 2026 کے مڈٹرم انتخابات کے لیے پولنگ شروع ہوگئی۔ ایوانِ نمائندگان کی 435، سینیٹ کی 35 نشستوں اور 36 ریاستوں میں گورنرز کا انتخاب جاری ہے۔ ڈیموکریٹس کو ایوان میں برتری کی امید، سینیٹ کا کنٹرول غیر یقینی اور ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح کے قریب۔ امریکی تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات پر 12 ارب ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ

Web Desk3 نومبر، 2026
امریکی انتخابات میں بڑا ٹرن آؤٹ، ابتدائی ووٹنگ میں 5 کروڑ سے زائد ووٹ
امریکی وسط مدتی انتخابات

امریکی انتخابات میں بڑا ٹرن آؤٹ، ابتدائی ووٹنگ میں 5 کروڑ سے زائد ووٹ

امریکا میں مڈٹرم انتخابات 2026 کے دوران 5 کروڑ سے زائد ووٹرز ووٹ ڈال چکے ہیں۔ ٹیکساس اور جارجیا سمیت اہم ریاستوں میں ریکارڈ ووٹنگ، کانگریس میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان سخت مقابلہ

محمد نعیم اختر2 نومبر، 2026
ٹیکساس میں ڈیموکریٹس کی واپسی کے امکانات، جیمز ٹالاریکو کو کین پیکسٹن پر برتری
امریکی وسط مدتی انتخابات

ٹیکساس میں ڈیموکریٹس کی واپسی کے امکانات، جیمز ٹالاریکو کو کین پیکسٹن پر برتری

امریکی ریاست ٹیکساس میں ڈیموکریٹس کی تاریخی کامیابی کے امکانات، تازہ سروے میں جیمز ٹالاریکو ریپبلکن کین پیکسٹن سے آگے۔ کیا 1994 کے بعد ٹیکساس میں سیاسی تاریخ بدلنے جا رہی ہے؟

محمد نعیم اختر2 نومبر، 2026