امریکی مڈٹرم انتخابات 2026: پولنگ شروع، کانگریس کا کنٹرول اور ٹرمپ کی مقبولیت داؤ پر

امریکا میں 2026 کے مڈٹرم انتخابات کے لیے پولنگ شروع ہوگئی۔ ایوانِ نمائندگان کی 435، سینیٹ کی 35 نشستوں اور 36 ریاستوں میں گورنرز کا انتخاب جاری ہے۔ ڈیموکریٹس کو ایوان میں برتری کی امید، سینیٹ کا کنٹرول غیر یقینی اور ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح کے قریب۔ امریکی تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات پر 12 ارب ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ
امریکا میں وسط مدتی انتخابات (مڈٹرم الیکشن) کے لیے پولنگ کا آغاز ہوگیا ہے، جہاں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر ووٹ ڈالے جا رہے ہیں، جبکہ 36 ریاستوں میں گورنرز کا انتخاب بھی ہو رہا ہے۔ انتخابات میں کانگریس کا کنٹرول، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی مقبولیت اور آئندہ حکومتی پالیسیوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
امریکی ریاست ورمونٹ میں مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بجے پولنگ شروع ہوئی، جبکہ نیو ہیمپشائر، نیو جرسی، نیویارک اور ورجینیا سمیت دیگر ریاستوں میں ووٹنگ کا آغاز صبح 6 بجے ہوا۔
ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں سخت مقابلہ
اس وقت امریکی ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکنز کی 218 اور ڈیموکریٹس کی 214 نشستیں ہیں۔ ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے 435 میں سے کم از کم 218 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ ایوانِ نمائندگان کے ارکان دو سال کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں۔

سینیٹ میں ریپبلکنز کی 53، ڈیموکریٹس کی 45 اور آزاد ارکان کی دو نشستیں ہیں۔ سینیٹ میں سادہ اکثریت کے لیے 100 میں سے 51 نشستیں درکار ہیں، تاہم دونوں جماعتوں کے درمیان 50، 50 نشستیں ہونے کی صورت میں نائب صدر کا ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے۔ سینیٹرز چھ سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔
5 کروڑ سے زائد امریکی پیشگی ووٹ ڈال چکے
امریکی انتخابات میں ابتدائی ووٹنگ کا رجحان بھی نمایاں رہا ہے۔ اب تک تقریباً 5 کروڑ 20 لاکھ ووٹرز پیشگی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر چکے ہیں، جن میں سے تقریباً 2 کروڑ 90 لاکھ افراد نے ابتدائی ووٹنگ کے دوران ووٹ ڈالے۔

مختلف انتخابی سرویز کے مطابق ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں برتری حاصل ہونے کا امکان ہے، تاہم سینیٹ کا کنٹرول غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے۔ سینیٹ کی سات اہم نشستوں پر دونوں جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح کے قریب
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح اپنی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مہنگائی ان کی مقبولیت میں کمی کی اہم وجوہات قرار دی جا رہی ہیں۔
ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے مزید تین نشستیں جبکہ سینیٹ میں کنٹرول حاصل کرنے کے لیے چار نشستیں جیتنا ہوں گی۔

اگر ڈیموکریٹس کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو انہیں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات شروع کرنے اور صدر کی اہم نامزدگیوں کی منظوری روکنے کے اختیارات حاصل ہو سکتے ہیں، جس سے وائٹ ہاؤس کے لیے سیاسی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
مڈٹرم انتخابات کی تاریخ بھی ٹرمپ کے لیے چیلنج
دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکی مڈٹرم انتخابات کی تاریخ حکمران جماعت کے لیے زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہی۔ اس عرصے میں صرف دو انتخابات کے علاوہ تقریباً تمام مواقع پر صدر کی جماعت نے کانگریس میں اپنی نشستیں کھوئی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تاریخی رجحان بھی موجودہ انتخابات میں ڈیموکریٹس کے لیے امید کی ایک اہم وجہ ہے۔
امریکی تاریخ کے مہنگے ترین مڈٹرم انتخابات
رپورٹس کے مطابق 2026 کے امریکی مڈٹرم انتخابات تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات ثابت ہو سکتے ہیں۔
سیاسی اخراجات پر نظر رکھنے والے ادارے اوپن سیکرٹس (OpenSecrets) کے تخمینے کے مطابق ان انتخابات پر مجموعی طور پر تقریباً 12 ارب ڈالر خرچ ہونے کا امکان ہے۔

تخمینے کے مطابق ڈیموکریٹس تقریباً ساڑھے 5 ارب ڈالر جبکہ ریپبلکنز 5 ارب ڈالر سے زائد خرچ کر سکتے ہیں۔ آزاد امیدواروں کے انتخابی اخراجات بھی تقریباً ایک ارب ڈالر سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ 2022 کے مڈٹرم انتخابات پر تقریباً 9 ارب ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔
امریکی ووٹرز کے فیصلے سے نہ صرف کانگریس میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آئندہ دو سالہ سیاسی حکمتِ عملی اور حکومتی ایجنڈے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
شائع ہوا: 3 نومبر، 2026 کو 02:20 PM
آخری تدوین: 3 نومبر، 2026



