پاکستان کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق امریکی بیان پر امریکی ناظم الامور کو ڈی مارش

پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق امریکی بیان پر اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو طلب کرکے ڈی مارش کردیا۔ دفتر خارجہ نے امریکی بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کے مطابق مؤقف اپنانے پر زور دیا
اسی موضوع سے پڑھیں
اسلام آباد: پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے دورے اور متنازع علاقے کی حیثیت سے متعلق امریکی بیان پر اسلام آباد میں موجود امریکی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کرکے باضابطہ طور پر ڈی مارش کردیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق امریکی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کرکے امریکی بیان پر پاکستان کے شدید تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔ پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ بھارت میں امریکی سفیر کا مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ اور اس حوالے سے دیا گیا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکی سفیر کا بیان جموں و کشمیر کے تنازع پر امریکہ کے دیرینہ اور واضح مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا۔
پاکستان کے مطابق یہ بیان بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور اقوام متحدہ کے منشور سے متعلق امریکی عزم کے بھی منافی ہے۔
پاکستان نے امریکی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے سرکاری اور عوامی بیانات جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کے مطابق ہوں اور مسئلے سے متعلق بین الاقوامی مؤقف کو مدنظر رکھا جائے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان نے ’’معرکۂ حق‘‘ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر تنازع کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کو سراہا تھا۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کا تنازع ایک دیرینہ بین الاقوامی مسئلہ ہے، جس کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
شائع ہوا: 20 اگست، 2026 کو 02:19 AM
آخری تدوین: 20 اگست، 2026



