وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
پاکستان

صدرِ مملکت نے وزیراعظم کی سفارش پر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کردی

W
Web Desk
11 اکتوبر، 2026
صدرِ مملکت نے وزیراعظم کی سفارش پر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کردی

صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کردی۔ صدارتی اعلامیے کے مطابق گورنر صوبائی حکومتی امور سنبھال سکیں گے جبکہ وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء اور دیگر متعلقہ عہدیدار عہدے چھوڑ دیں گے

اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش پر خیبرپختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نافذ کردی۔ ایوان صدر سے جاری صدارتی اعلامیے کے مطابق صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور امن و امان کی سنگین صورتحال کے پیش نظر یہ آئینی اقدام کیا گیا ہے۔

صدارتی اعلان فوری طور پر نافذ العمل قرار دیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی اضافے کے باعث عوام کی جان و مال، سرکاری تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

اعلامیے کے مطابق صوبائی حکومت دہشت گردی اور لاقانونیت کی روک تھام کے لیے مطلوبہ اقدامات اور عزم کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی۔ گورنر خیبرپختونخوا کی رپورٹ میں بھی صوبے میں آئینی نظام کے تعطل اور صوبائی حکومت کے آئین کے مطابق امور انجام دینے میں مشکلات کی نشاندہی کی گئی۔

گورنر خیبرپختونخوا کو صوبائی امور سنبھالنے کا اختیار

صدارتی اعلامیے کے مطابق آئین کے آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے تحت جاری کیے گئے اعلان میں وفاقی حکومت کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ گورنر خیبرپختونخوا کو صوبائی حکومت کے تمام یا بعض امور اپنے اختیار میں لینے کی ہدایت دے سکے۔

اعلامیے کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا وفاقی حکومت کی جانب سے تفویض کردہ اختیارات کے تحت صوبائی حکومتی امور انجام دے سکیں گے۔ صوبائی اسمبلی کے علاوہ صوبے کے دیگر اداروں اور حکام کے تمام یا بعض اختیارات بھی وفاقی حکومت کی ہدایت پر گورنر استعمال کرسکیں گے۔

وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء عہدے چھوڑ دیں گے

صدارتی اعلان میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے اختیارات پارلیمان یا اس کے اختیار کے تحت استعمال کیے جائیں گے۔

اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل اپنے عہدے فوری طور پر چھوڑ دیں گے۔

اس فیصلے کے نتیجے میں صوبے کے انتظامی معاملات اور حکومتی اختیارات کی انجام دہی کے طریقہ کار میں اہم تبدیلیاں آئیں گی۔ ان تبدیلیوں کی عملی تفصیلات وفاقی حکومت کی ہدایات اور متعلقہ آئینی اقدامات کے مطابق طے ہوں گی۔

وفاقی کابینہ نے ایمرجنسی کی منظوری دی تھی

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ محسن نقوی، مشیر رانا ثنا اللہ، وزیر مملکت طلال چوہدری اور دیگر وفاقی وزراء و حکام نے شرکت کی۔

وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کو سفارش کی کہ وہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر صدر مملکت کو آئین کے متعلقہ آرٹیکلز کے تحت ایمرجنسی نافذ کرنے کا مشورہ دیں۔ اس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے باضابطہ ایڈوائس ایوان صدر ارسال کی گئی۔

شہباز شریف کا دہشت گردی کے خلاف تعاون پر زور

وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا میں روزانہ دہشت گردی کے واقعات پیش آرہے ہیں اور صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔

وزیراعظم کے مطابق وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کو انسداد دہشت گردی کے لیے 800 ارب روپے فراہم کرچکی ہے، تاہم صوبے میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال قابل قبول نہیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کا عزم غیر متزلزل ہے۔

مولانا فضل الرحمن کے ذریعے آخری کوشش بھی کی گئی

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں یہ تجویز بھی زیر غور آئی تھی کہ خیبرپختونخوا کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے سے قبل مولانا فضل الرحمن کے ذریعے صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف وفاق کا ساتھ دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے۔

اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کرے۔

تاہم بعد ازاں وزیراعظم کی سفارش پر صدر مملکت نے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان جاری کردیا۔

خیبرپختونخوا کی سیاست اور انتظامی نظام میں اہم تبدیلی

صدر مملکت کے صدارتی اعلان کے بعد خیبرپختونخوا میں حکومتی اختیارات، صوبائی انتظامیہ اور اسمبلی کے کردار سے متعلق نئی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ وفاقی حکومت اور گورنر کے اختیارات کا عملی دائرہ صدارتی اعلان، آئینی دفعات اور وفاقی حکومت کی ہدایات کے مطابق ہوگا۔

ایمرجنسی کے نفاذ کے آئینی اور سیاسی اثرات کے ساتھ ساتھ صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات آئندہ دنوں میں اہم موضوع رہیں گے۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 11 اکتوبر، 2026 کو 07:57 AM

آخری تدوین: 11 اکتوبر، 2026

متعلقہ مضامین

قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی: گورنر خیبرپختونخوا
پاکستان

قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی: گورنر خیبرپختونخوا

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ امن و امان خراب کرنے، اشتعال انگیزی اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ انہوں نے عوام پرامن رہنے اور دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی اداروں کا ساتھ دینے کی اپیل کی

Web Desk11 اکتوبر، 2026
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی قابلِ مذمت، ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے: بیرسٹر گوہر
تازہ ترین

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی قابلِ مذمت، ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے: بیرسٹر گوہر

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر جمہوری اقدام قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی و جمہوری فورم پر آواز اٹھائیں گے

Web Desk11 اکتوبر، 2026
وفاقی کابینہ کی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی منظوری، صدر مملکت کو ایڈوائس ارسال
پاکستان

وفاقی کابینہ کی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی منظوری، صدر مملکت کو ایڈوائس ارسال

وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کی سفارش کردی۔ وزیراعظم ہاؤس سے صدر مملکت کو ایڈوائس ارسال، سکیورٹی رپورٹس میں دہشت گرد حملوں اور پولیس کو درپیش مشکلات کی تفصیلات سامنے آگئیں

Web Desk11 اکتوبر، 2026