آئی ایم ایف مذاکرات میں پیشرفت، فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کی نجکاری مارچ 2027 تک مکمل کرنے کا پلان

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان چوتھے اقتصادی جائزہ مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے۔ حکومت نے ڈسکوز کی نجکاری کا پلان شیئر کردیا، پہلے مرحلے میں فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کی نجکاری مارچ 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر ہے
اسی موضوع سے پڑھیں
اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان چوتھے اقتصادی جائزہ مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے، حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کا پلان اور ٹائم لائن آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کردی۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے پہلے مرحلے میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کی نجکاری مارچ 2027 تک مکمل کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فیسکو کی نجکاری جنوری، گیپکو کی فروری جبکہ آئیسکو کی نجکاری مارچ 2027 میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
منصوبے کے مطابق حیدرآباد اور سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کی نجکاری اپریل سے جون 2027 کے دوران مکمل کرنے کا ہدف ہے، جبکہ پشاور، ہزارہ، لاہور اور ملتان ڈسکوز کی نجکاری دسمبر 2027 تک مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کو نجکاری کے موجودہ منصوبے میں شامل نہیں کیا گیا۔
بجلی کے گردشی قرضے پر آئی ایم ایف کے تحفظاتذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے بجلی کے شعبے میں تقریباً 1,675 ارب روپے کے گردشی قرضے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے کراس سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جنوری 2027 سے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے ذریعے ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق مالی سال 2026-27 کے لیے حکومت نے بجلی کے شعبے میں 830 ارب روپے کی سبسڈی مختص کر رکھی ہے۔ گزشتہ مالی سال 10 ڈسکوز کو مجموعی طور پر 551 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، جبکہ ان کمپنیوں کا مجموعی نقصان 299 ارب روپے رہا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سبسڈی اور نقصانات کو ملا کر ڈسکوز پر سالانہ مالی بوجھ تقریباً 850 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
نجکاری کے طریقہ کار پر بھی سوالاتذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ڈسکوز کی نجکاری کے مجوزہ طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ حکومت نجکاری کے بعد ملک بھر میں یکساں بجلی ٹیرف برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
مجوزہ طریقہ کار کے تحت مؤثر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ڈسکوز کے صارفین بھی کم کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کمپنیوں کے نقصانات کا بالواسطہ بوجھ برداشت کریں گے۔
حکومت کی جانب سے ڈسکوز کے پرانے اور اربوں روپے کے واجبات کو الگ کرکے اسپیشل پرپز وہیکل (SPV) میں منتقل کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان بعض معاملات پر اتفاق رائے نہ ہوسکا تو اسٹاف لیول معاہدے کے لیے ورچوئل مذاکرات کیے جائیں گے، جبکہ آئی ایم ایف کا جائزہ مشن آئندہ چند روز میں پاکستان سے روانہ ہونے کی توقع ہے۔
شائع ہوا: 4 اکتوبر، 2026 کو 10:39 AM
آخری تدوین: 4 اکتوبر، 2026



