اقلیتوں کے تحفظ اور حقوق کیلئے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے: رمیش سنگھ اروڑہ

صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں اقلیتوں کے مذہبی حقوق اور آزادی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے، اقلیتوں کے لیے مختص بجٹ بڑھا کر 14 ارب روپے کر دیا گیا ہے
لاہور: صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب اقلیتوں کے تحفظ، حقوق اور مذہبی آزادی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، جبکہ اقلیتوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے قانون سازی اور معاشرتی رویوں میں تبدیلی ضروری ہے۔
اقلیتی لڑکیوں کو جبری تبدیلی مذہب سے قانونی تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد یورپی یونین، پارلیمانی کمیشن برائے انسانی حقوق اور سینٹر فار سوشل جسٹس کے اشتراک سے کیا گیا۔ تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت رشید لودھی، اقلیتی رکن پنجاب اسمبلی شکیلہ آرتھر اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پی سی ایچ آر شفیق چوہدری سمیت دیگر شرکاء نے شرکت کی۔
جبری تبدیلی مذہب کی روک تھام پر زور
پالیسی ڈائیلاگ کے دوران اقلیتی لڑکیوں کو جبری تبدیلی مذہب سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانونی اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے اقلیتی لڑکیوں کے حقوق کے تحفظ اور جبری تبدیلی مذہب کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی اور پالیسی سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
رمیش سنگھ اروڑہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اقلیتوں کو ’’سر کا تاج‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کو درپیش مسائل کے مستقل حل کے لیے صرف قانون سازی ہی نہیں بلکہ معاشرے کے رویوں میں بھی مثبت تبدیلی لانا ضروری ہے۔
اقلیتوں کے لیے بجٹ 14 ارب روپے کردیا گیا
صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت اقلیتوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پنجاب میں اقلیتوں کے مذہبی حقوق اور مذہبی آزادی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اقلیتوں کے لیے مختص بجٹ میں اضافہ کرکے اسے 14 ارب روپے کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے اقلیتی امور کے محکمے پر خصوصی توجہ دی ہے اور اس شعبے میں مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ جڑانوالہ واقعے کے بعد مسیحی برادری نے لبرٹی میں کھلے عام اپنا مذہبی تہوار منایا، جو مذہبی آزادی کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
مسیحی شادی کے قانون پر بھی کام جاری
صوبائی وزیر اقلیتی امور نے کہا کہ مسیحی شادی کے قانون کے حوالے سے بھی کام جاری ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کے ساتھ ساتھ موجودہ قوانین میں ضروری ترامیم بھی کی جائیں گی۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب حکومت اقلیتوں کو مساوی حقوق، مذہبی آزادی اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
شائع ہوا: 25 اگست، 2026 کو 03:27 AM
آخری تدوین: 25 اگست، 2026



