محسن نقوی سے روسی وزیر داخلہ کی ملاقات، سائبر کرائم اور منظم جرائم کے خلاف تعاون پر اتفاق

روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف کی اسلام آباد میں محسن نقوی سے ملاقات، پاکستان اور روس کا منظم جرائم، سائبر کرائم، منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی مائیگریشن کی روک تھام میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
اسلام آباد: روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف نے وزارتِ داخلہ اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر پاکستان اور روس کے درمیان وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات ہوئے، جن میں سکیورٹی تعاون، منظم جرائم کی روک تھام، سائبر کرائم کے خلاف اقدامات اور ویزا سہولتوں سمیت متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ نے مشترکہ مفادات کے تمام شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستان اور روس کا منظم جرائم کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق
مذاکرات میں پاکستان اور روس کے درمیان منظم جرائم کی روک تھام، معلومات کے تبادلے اور مجرمان کے تبادلے سے متعلق تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے علاوہ ری ایڈمیشن معاہدے پر جلد عمل درآمد کو حتمی شکل دینے کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی۔

دونوں فریقوں نے سائبر کرائم کی روک تھام، انسدادِ منشیات کے شعبے اور دونوں ممالک کی پولیس اکیڈمیز کے درمیان اشتراکِ کار بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔
اس سلسلے میں طے پایا کہ دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے ورکنگ گروپس جلد ایک دوسرے کے ملک کا دورہ کریں گے تاکہ طے شدہ معاملات پر پیش رفت کو آگے بڑھایا جا سکے۔
پاکستانی ہنرمند افرادی قوت اور ویزا سہولتوں پر گفتگو
مذاکرات کے دوران پاکستان سے روس ہنرمند افرادی قوت بھیجنے اور دونوں ممالک کے درمیان افرادی قوت کے تبادلے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سیاحوں اور کاروباری برادری کے لیے ویزا کے حصول کو آسان بنانے کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ دونوں ممالک کے درمیان ویزا سہولتوں میں بہتری کو عوامی روابط اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منظم جرائم کی روک تھام سے متعلق معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے فروغ میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ویزا نظام میں آسانی سے پاکستان اور روس کے عوام کے درمیان روابط مزید مضبوط ہوں گے۔ ان کے مطابق، پاکستان بالخصوص سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے روس کے تجربات اور جدید تکنیک سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔
محسن نقوی نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 1,300 پاکستانی طلبہ روس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور پاکستان کی خواہش ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے مزید طلبہ روس جائیں۔
روس کا سائبر کرائم کے خلاف تجربات پاکستان سے شیئر کرنے کا اعلان
روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف نے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی مائیگریشن اور منظم جرائم کی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ان سنگین مسائل سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون ضروری ہے۔

روسی وزیر داخلہ کے مطابق، روس نے مؤثر اور جامع اقدامات کے ذریعے اپنے ملک میں سائبر کرائم کی شرح میں 33 فیصد تک کمی حاصل کی ہے۔ انہوں نے اس شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون اور روس کے تجربات سے استفادہ کرنے میں معاونت کی پیشکش بھی کی۔
اعلیٰ حکام کی شرکت، تعاون کو عملی شکل دینے پر توجہ
ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، پاکستان میں روس کے سفیر، وزارتِ داخلہ کے خصوصی اور ایڈیشنل سیکرٹریز، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، آئی جی ایف سی، ڈائریکٹر جنرل نیشنل فرانزک ایجنسی، ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے، ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ، چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
ملاقات میں ہونے والی بات چیت کے مطابق، پاکستان اور روس سکیورٹی تعاون کو وسعت دینے، جرائم کی روک تھام کے لیے معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں۔ ورکنگ گروپس کے مجوزہ دوروں کو ان مشترکہ اقدامات پر پیش رفت کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔
شائع ہوا: 14 اکتوبر، 2026 کو 07:00 AM
آخری تدوین: 14 اکتوبر، 2026



