مصر میں منشیات کیس: ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ سمیت 12 افراد کو سزائے موت

مصر کی عدالت نے منشیات کیس میں ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ سمیت 12 افراد کو سزائے موت سنا دی۔ ملزمان پر منشیات کی تیاری، اسمگلنگ، اسلحہ رکھنے اور دیگر الزامات عائد تھے
قاہرہ: مصر کی ایک عدالت نے منشیات سے متعلق مقدمے میں معروف ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ سمیت 12 افراد کو سزائے موت سنا دی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 39 سالہ ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ اور دیگر 11 ملزمان کو ایک منظم مجرمانہ گروہ تشکیل دینے، منشیات کی تیاری کے لیے خام مال حاصل کرنے، اسمگلنگ کے مقصد سے منشیات تیار کرنے اور بغیر لائسنس اسلحہ و گولہ بارود رکھنے کے الزامات میں سزا سنائی گئی۔
مصری قانون کے تحت سزائے موت کے مقدمات میں فیصلہ سنانے سے قبل مفتی اعظم مصر سے شرعی رائے لینا لازمی طریقہ کار کا حصہ ہے۔ عدالت نے اسی قانونی عمل کے تحت مفتی اعظم کی رائے حاصل کرنے کے بعد فیصلہ سنایا، تاہم ملزمان کو اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے۔
750 کلوگرام سے زائد منشیات اور خام مال برآمد
مصری میڈیا کے مطابق حکام نے کارروائی کے دوران 750 کلوگرام سے زائد منشیات اور منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال قبضے میں لیا۔ حکام نے مبینہ طور پر دو اپارٹمنٹس بھی برآمد کیے جنہیں منشیات کی تیاری کے لیے لیبارٹریز کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
کارروائی کے دوران غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود بھی قبضے میں لیے جانے کا بتایا گیا ہے۔
اغوا اور تشدد کے مقدمے میں بھی سزا
عدالت نے سارہ خلیفہ اور دیگر ملزمان کو ایک نوجوان کے اغوا اور اس پر حملے سے متعلق ایک الگ مقدمے میں بھی پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔
سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپیل کا قانونی راستہ موجود ہے، اس لیے مقدمے میں آئندہ عدالتی کارروائی بھی اہم ہوگی۔
شائع ہوا: 7 ستمبر، 2026 کو 03:41 AM
آخری تدوین: 7 ستمبر، 2026



