وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
صفحہ اول

190 ملین پاؤنڈ کیس: بشریٰ بی بی کو بڑا عدالتی دھچکا، سزا معطلی کی درخواست مسترد

W
Web Desk
14 اکتوبر، 2026
190 ملین پاؤنڈ کیس: بشریٰ بی بی کو بڑا عدالتی دھچکا، سزا معطلی کی درخواست مسترد

190 ملین پاؤنڈ القادر ٹرسٹ کیس میں وفاقی آئینی عدالت نے بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد کر دی۔ چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس باقر نجفی پر مشتمل بینچ کا فیصلہ، بشریٰ بی بی کے وکیل نے طبی مسائل اور خاتون ہونے کی بنیاد پر سزا معطلی کی اپیل کی تھی

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ بشریٰ بی بی نے خاتون ہونے اور پیچیدہ طبی مسائل کے پیشِ نظر سزا معطل کرنے کی استدعا کی تھی۔

چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا۔ سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیے، جبکہ سلمان اکرم راجا بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

بشریٰ بی بی نے رواں سال جولائی میں وفاقی آئینی عدالت سے سزا معطلی کے لیے رجوع کیا تھا۔ ان کی جانب سے دائر فوجداری اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ خاتون ہونے اور پیچیدہ طبی مسائل کے باعث ان کی سزا معطل کی جائے۔

گزشتہ ماہ 17 ستمبر کو سلمان صفدر نے اپیل کی جلد سماعت کے لیے درخواست دائر کی تھی، جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ بشریٰ بی بی کی آنکھوں میں تیزی سے پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں اور ان کی باقی ماندہ بینائی کو بھی خطرہ لاحق ہے۔

عدالت میں وکیل کے دلائل

سماعت کے آغاز پر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتوں میں خواتین کے معاملات میں ہمیشہ نرم رویہ اختیار کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے نیب کے طرزِ عمل پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 13 ماہ کے دوران متعدد سماعتوں پر التوا لیا گیا اور سزا معطلی کی درخواست پر بھی اعتراض کیا گیا۔

وکیل نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی نے خاتون ہونے کی بنیاد پر سزا معطلی کی درخواست دی، جبکہ مقدمے میں زیادہ توجہ عمران خان کی اپیل پر مرکوز رہی۔

چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس مرحلے پر مقدمے کے میرٹ کا جائزہ نہیں لے رہی، کیونکہ اس کے سامنے سزا معطلی کی درخواست ہے۔ جسٹس باقر نجفی نے استفسار کیا کہ مرکزی اپیل کتنی مرتبہ سماعت کے لیے مقرر ہوئی ہے۔

دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا، جسے بعد ازاں سناتے ہوئے بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد کر دیا۔ عدالت نے اس حوالے سے تحریری حکم نامہ بھی جاری کیا۔

القادر ٹرسٹ کیس میں سزا کا پس منظر

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے 17 جنوری 2025 کو 190 ملین پاؤنڈ القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کو 14 سال اور بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے دونوں پر جرمانے بھی عائد کیے تھے، جبکہ القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا تھا۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے مئی 2026 میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں اس بنیاد پر نمٹا دی تھیں کہ ان کی مرکزی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر ہیں۔ بعد ازاں بشریٰ بی بی نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا، تاہم اب ان کی سزا معطلی کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 14 اکتوبر، 2026 کو 02:06 PM

آخری تدوین: 14 اکتوبر، 2026

متعلقہ مضامین