وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
پاکستان

کے پی پولیس ایکٹ 2026 پر طلال چودھری کے تحفظات، ’’یہ قانون سازی آئین کی خلاف ورزی ہے‘‘

W
Web Desk
24 ستمبر، 2026
کے پی پولیس ایکٹ 2026 پر طلال چودھری کے تحفظات، ’’یہ قانون سازی آئین کی خلاف ورزی ہے‘‘

وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چودھری نے خیبرپختونخوا کے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے اپنی فوج یا پولیس نہیں بنا سکتے اور مجوزہ قانون پولیس کے کمانڈ اسٹرکچر کو متاثر کرے گا۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا کابینہ نے 23 ستمبر کو ترمیم شدہ پولیس ایکٹ 2026 کے مسودے کی منظوری دے دی ہے، جس میں آئی جی پولیس کی تعیناتی، سینئر افسران کے تبادلوں اور پولیس کے انتظامی و پالیسی معاملات میں صوبائی حکومت کے کردار میں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چودھری نے خیبرپختونخوا کے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون سازی سے پولیس کے موجودہ کمانڈ اسٹرکچر پر اثر پڑ سکتا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چودھری نے کہا کہ آئین اور متعلقہ قواعد کے تحت پولیس سروس آف پاکستان (PSP) کے نظام میں ایسی تبدیلیاں نہیں کی جاسکتیں جو پولیس کے کمانڈ اسٹرکچر کو متاثر کریں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مصروف پولیس کے کمانڈ نظام کو تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔

مجوزہ پولیس ایکٹ میں کیا تبدیلیاں ہیں؟

خیبرپختونخوا کابینہ نے 23 ستمبر کو ترمیم شدہ پولیس ایکٹ 2026 کے مسودے کی منظوری دی، جسے اب صوبائی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں قانون سازی کے لیے پیش کیا جانا ہے۔

مجوزہ قانون کے تحت وفاقی حکومت آئی جی پولیس کی تعیناتی کے لیے تین افسران پر مشتمل پینل صوبائی حکومت کو بھیجے گی، جس میں سے صوبائی حکومت ایک افسر کا انتخاب کرسکے گی یا پورے پینل کو مسترد کرسکے گی۔

مسودے میں ریجنل پولیس افسران اور ضلعی پولیس افسران سمیت سینئر پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلوں کے طریقہ کار میں بھی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ بعض اختیارات وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں دینے کی تجویز ہے۔

طلال چودھری کا مؤقف

طلال چودھری نے مجوزہ قانون پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق اس سے آئی جی کے اختیارات کے ساتھ ساتھ پولیس کے مجموعی کمانڈ اسٹرکچر پر بھی اثر پڑے گا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پولیس افسران کی تعیناتیوں اور تبادلوں میں سیاسی اختیار بڑھایا گیا تو پولیس دہشت گردی کے خلاف مؤثر انداز میں کیسے کام کرے گی۔

طلال چودھری نے مزید کہا کہ پولیس میں تعیناتیوں سے متعلق مشاورت اور ہدایات کا اختیار پہلے ہی وزرائے اعلیٰ کے پاس موجود ہے۔

صوبائی حکومت کا مؤقف

دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت مجوزہ قانون کو پولیس کے نظام میں اصلاحات، جوابدہی اور پالیسی و آپریشنل معاملات میں واضح تقسیم کے اقدام کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق مجوزہ قانون میں پولیس پالیسی بورڈ اور پولیس آپریشنز بورڈ سمیت مختلف انتظامی و نگرانی کے طریقہ کار شامل کیے گئے ہیں۔

اہم قانونی نکتہ: طلال چودھری کی جانب سے مجوزہ قانون کو آئین کی خلاف ورزی قرار دینا ان کا مؤقف ہے۔ قانون کے آئینی ہونے یا نہ ہونے کا حتمی تعین متعلقہ قانونی و عدالتی فورمز ہی کریں گے۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 24 ستمبر، 2026 کو 09:46 AM

آخری تدوین: 24 ستمبر، 2026

متعلقہ مضامین

ریڈیو پاکستان حملہ کیس: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت 5 افراد پولیس رپورٹ میں نامزد
پاکستان

ریڈیو پاکستان حملہ کیس: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت 5 افراد پولیس رپورٹ میں نامزد

ریڈیو پاکستان پشاور حملہ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے انسداد دہشتگردی عدالت میں تحقیقاتی رپورٹ جمع کرادی، جس کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت تیمور سلیم جھگڑا، عرفان سلیم، کامران بنگش اور عامر خان چمکنی کو کیس میں نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس رپورٹ میں نادرا اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹس کا حوالہ دیا گیا ہے۔ تاہم عدالت نے اس سے قبل تفتیشی افسر کی ایک رپورٹ کو غیر حتمی قرار دے کر مسترد کیا تھا اور حتمی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا

Web Desk24 ستمبر، 2026
مسلم لیگ ن کے ڈاکٹر نجیب نقی آزاد کشمیر کے 25ویں صدر منتخب، 32 ووٹ حاصل کیے
پاکستان

مسلم لیگ ن کے ڈاکٹر نجیب نقی آزاد کشمیر کے 25ویں صدر منتخب، 32 ووٹ حاصل کیے

ڈاکٹر نجیب نقی آزاد جموں و کشمیر کے 25ویں صدر منتخب ہوگئے۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں مسلم لیگ ن کے امیدوار ڈاکٹر نجیب نقی نے 32 ووٹ حاصل کیے، جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری لطیف اکبر کو 13 ووٹ ملے۔ ڈاکٹر نجیب نقی اس سے قبل آزاد کشمیر کے وزیر صحت بھی رہ چکے ہیں

Web Desk24 ستمبر، 2026
لاہور ہائیکورٹ کا عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن معطل کرنے سے انکار
تازہ ترین

لاہور ہائیکورٹ کا عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن معطل کرنے سے انکار

لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے نوٹیفکیشن کو فوری طور پر معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی۔ جسٹس عبہر گل خان نے درخواست کی سماعت کے دوران فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا

Web Desk24 ستمبر، 2026