لاہور ہائیکورٹ کا عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن معطل کرنے سے انکار

لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے نوٹیفکیشن کو فوری طور پر معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی۔ جسٹس عبہر گل خان نے درخواست کی سماعت کے دوران فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا
لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی بہنوں عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر فوری ریلیف دینے سے انکار کرتے ہوئے نظر بندی کا نوٹیفکیشن معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی۔
لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل خان نے عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔
عدالت میں وکلا کے دلائل
سماعت کے دوران عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی جانب سے مدثر عمر ایڈووکیٹ اور بیرسٹر تیمور عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے فرخ لودھی ایڈووکیٹ نے دلائل دیے۔
درخواست گزاروں کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ نظر بندی کے نوٹیفکیشن کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔
تاہم عدالت نے فوری طور پر نظر بندی کا نوٹیفکیشن معطل کرنے کی درخواست مسترد کردی۔
فریقین سے جواب طلب
لاہور ہائیکورٹ نے درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔
عدالت کی جانب سے فوری معطلی کی استدعا مسترد ہونے کے بعد درخواست پر آئندہ کارروائی فریقین کے جوابات موصول ہونے کے بعد آگے بڑھے گی۔
شائع ہوا: 24 ستمبر، 2026 کو 07:14 AM
آخری تدوین: 24 ستمبر، 2026



