پی ٹی آئی کو اسلام آباد نہیں آنے دیں گے، گرفتاریاں بھی ہوں گی ،گورنر راج کا امکان نہیں : عطا تارڑ |

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اسلام آباد آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں گرفتاریاں بھی ہوں گی۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے ’’عوامی راج‘‘ کی ضرورت پر زور دیا
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر مکمل تیار ہے اور کسی بھی ایسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی جس سے امن و امان کی صورتحال خراب ہو۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اسلام آباد آنے سے روکا جائے گا اور خلاف ورزی کی صورت میں گرفتاریاں بھی ہوں گی۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ احتجاج اور دھرنوں کے باعث معاشی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور ان کے بقول روزانہ اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ
اسلام آباد میں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور کسی بھی ممکنہ پرتشدد کارروائی سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پیشگی اقدامات کرے۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں اور ضرورت کے مطابق دیگر انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق مؤقفخیبرپختونخوا میں گورنر راج کے سوال پر عطا تارڑ نے کہا کہ انہیں اس اقدام کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں گورنر راج کے بجائے عوامی راج کی ضرورت ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں گورننس کے مسائل موجود ہیں اور صوبائی حکومت کو امن و امان، انسداد دہشتگردی اور دیگر معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔
پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی سے متعلق الزاماتوفاقی وزیر اطلاعات نے پی ٹی آئی پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ نظریاتی قربت کے الزامات بھی عائد کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی ایک ایسی سیکیورٹی فورس تشکیل دینا چاہتی ہے جس میں بھرتیوں اور تقرریوں کا اختیار صوبائی حکومت کے پاس ہو۔
عطا تارڑ نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی تشکیل اور بھرتیوں کے لیے قانونی اختیار ضروری ہے اور ان کے بقول صوبائی حکومت کا مجوزہ طریقہ کار قانونی سوالات پیدا کرتا ہے۔
خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی اور وسائل کا معاملہعطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو انسداد دہشتگردی کے لیے نیشنل فنانس کمیشن (NFC) کے تحت فنڈز ملتے ہیں۔ انہوں نے صوبے میں اسمگلنگ، غیر قانونی مائننگ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے استعمال جیسے مسائل کی بھی نشاندہی کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ریاستی رٹ برقرار رہے اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
علیمہ خان کی گرفتاری پر مؤقفعطا تارڑ نے علیمہ خان سمیت دیگر افراد کے حوالے سے کہا کہ ان کے خلاف مقدمات قائم نہیں کیے گئے بلکہ بعض افراد کو 16 ایم پی او کے تحت احتیاطی نظربندی میں رکھا گیا۔ ان کے مطابق انتظامیہ کے پاس امن و امان خراب ہونے کے خدشات سے متعلق اطلاعات موجود تھیں۔
وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں اور حکومت کسی بھی ممکنہ احتجاج یا بدامنی سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
شائع ہوا: 24 ستمبر، 2026 کو 04:24 AM
آخری تدوین: 24 ستمبر، 2026



