امریکا کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے، ایرانی صدر کا اقوام متحدہ میں دوٹوک اعلان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں امریکا کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران فوجی طاقت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا، تاہم تنازع کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ ایرانی صدر نے امریکی و اسرائیلی حملوں، عالمی برادری کے مبینہ دوہرے معیار اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی اظہارِ خیال کیا
اسی موضوع سے پڑھیں
نیویارک:ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ میں فوجی طاقت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا، تاہم تنازع کے خاتمے کے لیے ایران سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔
خطاب کے آغاز میں ایرانی صدر نے آیت اللہ خامنہ ای اور میناب میں امریکی و اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والے اسکول کے بچوں کی تصاویر پیش کیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکی حملوں میں کلسٹر بم استعمال کیے گئے، جن کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری جاں بحق ہوئے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ اسپتالوں اور اسکولوں کو نشانہ بنائے جانے سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی، جبکہ سیکڑوں افراد جاں بحق اور ہزاروں بے گھر ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران دہشت گرد نہیں بلکہ جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا اور جوابی کارروائی میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا، عام شہریوں کو نہیں۔ انہوں نے عالمی برادری کے مبینہ دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے اقدامات کے باوجود پابندیاں ایران پر عائد کی جاتی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایرانی قوم کو دھمکیوں سے متحد کیا جاتا ہے اور امریکی قیادت کو یہ بات سمجھنی چاہیے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایرانی صدر نے کہا کہ اسے ایسے ہتھیاروں کی ترسیل کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جا سکتا جو ایران کے خلاف استعمال ہوں۔
ایرانی صدر کے خطاب کے آغاز پر امریکی مندوب کی جانب سے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ بھی سامنے آیا۔
شائع ہوا: 23 ستمبر، 2026 کو 03:35 PM
آخری تدوین: 23 ستمبر، 2026



