امریکا کا ایران پر ’مدر آف آل بمز‘ گرانے پر غور، سی این این کا اہم انکشاف

سی این این کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران کی جوہری اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے دنیا کے طاقتور ترین غیر جوہری بم جی بی یو 43 کے استعمال پر غور کر رہی ہے، تاہم حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا
واشنگٹن: امریکی فوج ایران کی جوہری اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے دنیا کے طاقتور ترین غیر جوہری بموں میں شمار ہونے والے جی بی یو 43 کے استعمال پر غور کر رہی ہے۔ امریکی ٹی وی چینل سی این این کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے بعد فتح کا اعلان کرنے کے لیے مناسب موقع تلاش کر رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جی بی یو 43، جسے ’مدر آف آل بمز‘ بھی کہا جاتا ہے، ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے زیر غور آپشنز میں شامل ہے۔ تاہم اس بم کے استعمال کے حوالے سے تاحال کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ایران کی جوہری اور توانائی تنصیبات ممکنہ ہدف
سی این این کے مطابق امریکی فوج ایران کی اہم جوہری اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے اس بڑے غیر جوہری بم کے ممکنہ استعمال پر غور کر رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایسا موقع تلاش کر رہی ہے جس کی بنیاد پر ایران کے خلاف کارروائی کو کامیابی قرار دے کر فتح کا اعلان کیا جا سکے۔ تاہم یہ سوال برقرار ہے کہ آیا اس بم کے استعمال سے امریکا اپنے مطلوبہ فوجی اور تزویراتی مقاصد حاصل کر سکے گا یا نہیں۔
’مدر آف آل بمز‘ کتنا طاقتور ہے؟
جی بی یو 43 امریکی ساختہ ایک انتہائی طاقتور غیر جوہری بم ہے، جسے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت کے باعث ’مدر آف آل بمز‘ کا نام دیا گیا ہے۔
امریکی فوج اس بم کو اس سے قبل صرف ایک مرتبہ افغانستان میں استعمال کر چکی ہے۔ اس کے ممکنہ استعمال کا ایران کے تناظر میں زیر غور آنا خطے میں فوجی کشیدگی کے حوالے سے اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے اہم سوالات
سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف اس بم کا استعمال فی الحال ایک ممکنہ فوجی آپشن ہے، نہ کہ کوئی حتمی فیصلہ۔ اس لیے یہ واضح نہیں کہ امریکی انتظامیہ اس آپشن پر عمل درآمد کرے گی یا کسی متبادل حکمت عملی کو ترجیح دے گی۔
ایران کی جوہری اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے متعلق کسی بھی فیصلے کے علاقائی سلامتی اور جاری کشیدگی پر ممکنہ اثرات اہم ہوں گے۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس مخصوص بم کے استعمال اور ممکنہ اہداف کے بارے میں حتمی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
شائع ہوا: 15 اکتوبر، 2026 کو 07:00 AM
آخری تدوین: 15 اکتوبر، 2026



