امریکہ کی عالمی فوجداری عدالت پر نئی پابندیاں، اسرائیلی حکام کے خلاف کارروائی روکنے کی کوشش
محمد نعیم اختر10 اکتوبر، 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت آئی سی سی کے خلاف نئی اقتصادی پابندیوں کا اعلان کر دیا۔ مارکو روبیو نے عدالت پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جانبداری کا الزام عائد کیا۔ نیتن یاہو کے گرفتاری وارنٹ، افغانستان کی تحقیقات اور امریکی پابندیوں کے عالمی اثرات کی تفصیلات جانیے
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے خلاف نئی اور وسیع اقتصادی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق ان اقدامات کا مقصد امریکی اور اسرائیلی حکام کے خلاف عدالت کی کارروائیوں کو روکنا اور امریکی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
امریکی انتظامیہ کے مطابق نئے اقدامات کے تحت بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ساتھ بعض مالی لین دین پر پابندیاں عائد کی جائیں گی، جبکہ امریکی دائرۂ اختیار میں موجود عدالت کے اثاثے بھی منجمد کیے جا سکتے ہیں۔ ان پابندیوں سے عدالت کو خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں اور کاروباری اداروں کے لیے بھی مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
مارکو روبیو نے الزام عائد کیا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت سیاسی جانبداری کا مظاہرہ کر رہی ہے اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف اپنے اختیارات سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ امریکی شہریوں کے خلاف عدالت کی کارروائیوں کی اجازت نہیں دیں گے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ امریکہ اور اسرائیل روم اسٹیچوٹ کے فریق نہیں ہیں، اس لیے ان ممالک کے متعلقہ حکام کے خلاف عدالت کے دائرۂ اختیار پر واشنگٹن کو اعتراضات ہیں۔
نیتن یاہو کے گرفتاری وارنٹ اور افغانستان کی تحقیقاتامریکہ اور آئی سی سی کے درمیان کشیدگی کی ایک بڑی وجہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ ہیں، جو غزہ میں مبینہ جنگی جرائم سے متعلق الزامات کے تناظر میں جاری کیے گئے تھے۔
امریکہ کو افغانستان میں امریکی فوجیوں کے مبینہ اقدامات سے متعلق عدالت کی سابقہ تحقیقات پر بھی اعتراض رہا ہے۔ تاہم افغانستان سے متعلق تحقیقات اور اسرائیلی حکام کے خلاف کارروائی الگ الگ قانونی معاملات ہیں۔

دوسری جانب آئی سی سی کی نائب پراسیکیوٹر نازہت شمیم خان نے امریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون کی حکمرانی اور ایک آزاد عدالتی ادارے کے کام کو کمزور کر سکتے ہیں۔
یورپ اور عالمی قانون پر کیا اثر پڑے گا؟امریکی پابندیوں کے باوجود آئی سی سی نے اپنی تحقیقات اور قانونی کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ تاہم پابندیوں کے باعث عدالت کو مالیاتی خدمات، کاروباری تعاون اور انتظامی امور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس امریکی اقدام سے واشنگٹن اور یورپی ممالک کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ یورپی یونین کے تمام رکن ممالک بین الاقوامی فوجداری عدالت کے رکن ہیں اور متعدد امریکی اتحادی اس عدالت کی حمایت کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کا قیام 2002 میں عمل میں آیا تھا اور اس کا صدر دفتر نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں ہے۔ عدالت نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، جنگی جرائم اور جارحیت کے جرم جیسے سنگین بین الاقوامی جرائم کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرتی ہے۔

امریکی پابندیوں کے بعد اہم سوال یہ ہے کہ عدالت اپنے بین الاقوامی مقدمات اور انتظامی امور کو کس حد تک متاثر ہونے سے بچا سکے گی اور یورپی اتحادی واشنگٹن کے اس فیصلے پر کیا ردعمل ظاہر کریں گے۔

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 10 اکتوبر، 2026 کو 05:32 AM
آخری تدوین: 10 اکتوبر، 2026



