ڈیموکریٹس کا جشن، حکیم جیفریز بولے ’آج امریکہ جیت گیا‘

امریکی وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی پر ڈیموکریٹس کا جشن، حکیم جیفریز نے کہا آج امریکہ جیت گیا۔ چک شومر نے سینیٹ کے سیاسی نقشے میں بڑی تبدیلی قرار دے دیا، جبکہ ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے چیئرمین کین مارٹن نے اگلا ہدف وائٹ ہاؤس کو قرار دے دیا
امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی میں جشن کا سماں ہے۔ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، دونوں ایوانوں میں کامیابی کے بعد ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اسے امریکی عوام کے اعتماد اور پارٹی کے سیاسی ایجنڈے کی کامیابی قرار دیا ہے۔
ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے پارٹی کی کامیابی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ سرخ، سفید اور نیلے رنگ کا لمحہ ہے، کیونکہ آج رات امریکہ جیت گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انتخابی نتائج امریکی جمہوریت اور عوامی ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما چک شومر نے بھی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کے سیاسی نقشے میں ایک نسل کے عرصے پر محیط بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں چک شومر نے کہا کہ ڈیموکریٹس نے انتخابی مہم کے دوران امریکی عوام کی ترجیحات پر توجہ مرکوز رکھی اور اب پارٹی ٹرمپ کے ساتھ یا ان کے بغیر اپنے وعدے پورے کرنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے چیئرمین کین مارٹن نے انتخابی نتائج کو عوامی اعتماد کا اظہار قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی ووٹرز نے ڈیموکریٹس اور محنت کش طبقے کے ایجنڈے پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
کین مارٹن نے کہا کہ آئندہ دو برسوں میں ڈیموکریٹس ان معاملات پر کام کریں گے جہاں ان کے بقول ری پبلکن ناکام رہے ہیں۔ پارٹی کی ترجیح عوام کے اخراجات میں کمی لانے کے لیے مسلسل اقدامات کرنا ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ڈیموکریٹس کا اگلا سیاسی ہدف وائٹ ہاؤس ہے۔
انتخابی کامیابی کے بعد ڈیموکریٹ قیادت کی نظریں اب کانگریس میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باقی ماندہ مدتِ صدارت کے دوران حکومتی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے پر مرکوز ہیں۔
شائع ہوا: 4 نومبر، 2026 کو 02:30 PM
آخری تدوین: 4 نومبر، 2026



