ایران جنگ پر امریکی اخراجات 47 ارب ڈالر سے بڑھ گئے, پینٹاگون

ایران کے خلاف امریکی جنگی کارروائیوں کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے۔ پینٹاگون کے اعداد و شمار جولائی کے تخمینے سے 25 فیصد زائد ہیں
واشنگٹن:ایران کے خلاف امریکی جنگی کارروائیوں کے مالی اخراجات 47 ارب ڈالر کی حد عبور کر گئے ہیں، جبکہ پینٹاگون کے اعداد و شمار کے مطابق یہ رقم محکمہ دفاع کے جولائی میں پیش کردہ تخمینے سے 25 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ اخراجات میں اس اضافے کے باوجود ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں سے امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کا مکمل تخمینہ واضح نہیں کیا گیا۔
پینٹاگون کے اعداد و شمار کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں پر امریکا کی مجموعی لاگت 47 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ رقم جولائی میں محکمہ دفاع کی جانب سے لگائے گئے تخمینے سے ایک چوتھائی سے بھی زیادہ ہے، جو جنگی اخراجات میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔
اخراجات میں اضافے کی وجوہ، مختلف فوجی آپریشنز پر صرف ہونے والی رقوم اور مجموعی مالی بوجھ کی تفصیلی تقسیم فراہم کردہ معلومات میں واضح نہیں کی گئی۔
میزائل اور ڈرون حملوں سے ہونے والے نقصان کا حساب نامکمل
خبر ایجنسی کے مطابق دستیاب اعداد و شمار میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی بحالی اور مرمت کے اخراجات کا تخمینہ واضح طور پر شامل نہیں ہے۔
اس پہلو کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ فوجی کارروائیوں کی لاگت کا مکمل حساب لگانے کے لیے براہِ راست آپریشنل اخراجات کے ساتھ تنصیبات کی مرمت اور نقصان کے ازالے پر آنے والی رقم کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
حتمی لاگت کے تعین کے لیے مزید تفصیلات درکار
47 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے والے اخراجات اور جولائی کے تخمینے سے 25 فیصد سے زیادہ اضافے کے باوجود دستیاب معلومات سے جنگ کی مکمل مالی لاگت کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔
خصوصاً امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کے اخراجات کی واضح تفصیل نہ ہونے کے باعث مجموعی مالی بوجھ کا مکمل اندازہ لگانا مشکل ہے۔ مزید تفصیلات سامنے آنے پر ہی جنگی کارروائیوں کی مجموعی لاگت اور امریکی دفاعی وسائل پر اس کے اثرات کا زیادہ جامع جائزہ ممکن ہو سکے گا۔
شائع ہوا: 28 اکتوبر، 2026 کو 07:15 AM
آخری تدوین: 28 اکتوبر، 2026



