کیوبا کا امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ، عالمی برادری سے قرارداد کی حمایت کی اپیل
زاہد فاروق ملک28 اکتوبر، 2026
پاکستان میں کیوبا کے سفیر دامیان کورڈیرو ٹورس نے اقوام متحدہ سے امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی قرارداد کی حمایت کی اپیل کردی۔ سفیر کے مطابق پابندیوں سے کیوبا کو 8.083 ارب ڈالر کا نقصان ہوا
اسلام آباد: پاکستان میں کیوبا کے سفیر دامیان کورڈیرو ٹورس نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ 27 اور 28 اکتوبر 2026 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کیوبا کے خلاف امریکی اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی ناکہ بندی ختم کرنے کی قرارداد کی حمایت کرے۔
اسلام آباد میں کیوبا کے سفارت خانے کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں سفیر نے کہا کہ امریکی پابندیاں کیوبا کی معیشت اور عوام کی بنیادی ضروریات پر شدید اثرات مرتب کر رہی ہیں۔
سفیر کے مطابق یکم مارچ 2025 سے 28 فروری 2026 تک امریکی ناکہ بندی کے باعث کیوبا کو 8.083 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایندھن اور ادویات کی قلت کے باعث صحت، بجلی اور خوراک کی فراہمی کے نظام کو سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔
دامیان کورڈیرو ٹورس نے امریکی پابندیوں کو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیوبا امریکہ کے ساتھ برابری، باہمی احترام اور قومی خودمختاری کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم وہ اپنی آزادی اور خود ارادیت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
کیوبا کے سفیر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی قرارداد کی حمایت کرکے امریکی ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

زاہد فاروق ملک پاکستان کے ممتاز سینئر صحافی، کالم نگار اور میڈیا ایگزیکٹو ہیں۔ وہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مقیم ہیں اور اس وقت وائسز آف امریکا کے بیورو چیف کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
شائع ہوا: 28 اکتوبر، 2026 کو 08:09 AM
آخری تدوین: 28 اکتوبر، 2026



