اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو شکست سے میری وجہ سے بچے، ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی حمایت نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو انتخابات میں متوقع شکست سے بچایا۔ ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کو برتری حاصل ہے، تاہم حکومت سازی کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی حمایت کی بدولت اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے انتخابات میں توقعات سے بہتر کارکردگی دکھائی اور ممکنہ شکست سے بچنے میں کامیاب رہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ نیتن یاہو کی کارکردگی توقعات سے کہیں بہتر رہی اور وہ جیت رہے ہیں یا مقابلہ برابر ہے۔ ان کے مطابق پہلے ہونے والے سروے نیتن یاہو کی شکست کی پیشگوئی کر رہے تھے، تاہم ان کی حمایت نے انتخابی صورتحال کا رخ تبدیل کردیا۔ ٹرمپ نے اس دعوے کو ایک دوسرے شخص سے منسوب کرتے ہوئے نقل کیا۔
ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کو برتری
فراہم کردہ انتخابی اعداد و شمار کے مطابق ووٹوں کی گنتی کے دوران نیتن یاہو کی جماعت لیکود 28 نشستوں پر آگے ہے، جبکہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کو 21 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔
مجموعی طور پر نیتن یاہو کا دائیں بازو کا اتحاد 57 نشستوں، اپوزیشن اتحاد 47 نشستوں اور عرب جماعتوں پر مشتمل گروپ 16 نشستوں پر آگے بتایا گیا ہے۔
حکومت سازی کے لیے 61 نشستیں ضروری
اسرائیلی پارلیمان، جسے کنیست کہا جاتا ہے، کی مجموعی 120 نشستوں میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق نیتن یاہو اتحاد برتری کے باوجود مطلوبہ اکثریت سے چار نشستیں پیچھے ہے۔
ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک نتائج میں تبدیلی ممکن ہے، جبکہ حکومت سازی کے لیے مختلف جماعتوں کی حمایت اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
ٹرمپ کی حمایت کا انتخابی نتائج پر اثر؟
ٹرمپ نے اپنی حمایت کو نیتن یاہو کی بہتر انتخابی کارکردگی سے جوڑا ہے، تاہم ان کے دعوے کی آزادانہ تصدیق اور حمایت کے انتخابی نتائج پر حقیقی اثرات کا تعین حتمی نتائج اور مزید شواہد سامنے آنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
فی الحال ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کو برتری حاصل ہے، لیکن حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل کرنا ایک اہم چیلنج برقرار ہے۔
شائع ہوا: 28 اکتوبر، 2026 کو 09:05 AM
آخری تدوین: 28 اکتوبر، 2026



