دشمن کو شکست، امریکا ہمارا 10 نکاتی منصوبہ قبول کرنے پر مجبور ہوگیا: ایران

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے جنگ بندی معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دشمن کو مجرمانہ جنگ میں "ناقابل تردید، تاریخی اور عبرتناک شکست" کا سامنا کرنا پڑا ہے اور امریکا ایران کا 10 نکاتی منصوبہ قبول کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔
(تہران)ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران نے مذاکرات کے دوران امریکا کو 10 نکاتی منصوبہ قبول کرنے پر مجبور کیا، جس میں امریکا کی جانب سے عدم جارحیت کی ضمانت دینا بھی شامل ہے۔ بیان کے مطابق ان تجاویز میں آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو برقرار رکھنے کی شرط بھی شامل کی گئی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق منصوبے میں ایران کے جوہری افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا، تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کا خاتمہ، سلامتی کونسل اور بورڈ آف گورنرز کی قراردادوں کو ختم کرنا اور ایران کو جنگی نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ خطے سے امریکی جنگی افواج کے انخلاء، لبنان کے خلاف تمام اسلامی محاذوں پر جنگ بندی کو یقینی بنانے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی تجاویز بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے کہا کہ فتح کی مکمل تفصیلات سامنے آنے تک اتحاد اور یکجہتی برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران نے پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کرلیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی شرائط تسلیم کرنے کے بعد دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم قدم قرار دی جا رہی ہے، تاہم حتمی معاہدے تک صورتحال غیر یقینی برقرار رہنے کا امکان ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 8 اپریل، 2026 کو 07:01 AM
آخری تدوین: 8 اپریل، 2026



